مچھ میں معدنی کوئلے کی کانکنی ایک پرخطر اور جان لیوا کاروبار بن چکا ہے، رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے مچھ میں معدنی کوئلے کی کانکنی ایک پرخطر اور جان لیوا کاروبار بن چکا ہے۔ جہاں کوئلہ سہولیات فراہم نہ کرکے کانکنوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔

اب تک مچھاور گردنواح میں قائم درجنوں کول کمپنیاں فرسودہ اور قدیم طرز کانکنی کی وجہ سے سینکڑوں انسانی جانیں نگل چکی ہیں۔

مچھ میں مقامی صحافیوں کے ایک رپورٹ کے مطابق مائنز منیجر سے لے کر مستری ریسکیو تک ہزاروں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کراپنے خاندان اور منظور نظر افراد کو تعینات کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مائنز حادثات روز کا معمول بن گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معدنی کوئلے کی کانکنی کے بارے میں مروجہ قوانین کی دھجیاں آڑا کر پیسہ کمایا جارہا ہے۔جبکہ بلوچستان میں کوسٹ کے مقام پر تربیتی ادارہ بھی قائم ہے لیکن مچھ کول کمپنیز ان تمام قوانین کو پس پشت رکھ کر غیر تربیت یافتہ اور اپنے خاندان کے تمام افراد کو روزگار کے نام پر تعینات کرتے ہیں جو نان ٹیکنیکل ہونے کی وجہ سے مربوط انتظامات کرنے سے قاصر رہ کر روایتی اندازوں پر انحصار کرتے ہیں جس کا خمیازہ محنت کشوں کو اپنی جان کی قربانی دے کر بھگتنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حادثات کی صورت میں کمپنیاں نہ مزدوروں کی علاج معالجے کا خرچہ اٹھاتی ہیں اور نہ ہی موت کی صورت میں اس کے پسماندگان کو معاوضہ ادا کرتی ہیں۔بلکہ غریب مزدوروں کیلئے اپنی مددآپ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزدوروں کو کمپنی کی جانب سے نہ رہائش دیجاتی ہے اور نہ ہی دوران کام صاف پینے کا پانی اور بنیادی صحت کی کوئی سہولت میسر نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دکھانے کیلئے کمپنیز کی قائم کردہ ڈسپنسریز ہیں لیکن وہاں نہ عملہ وادویات دستیاب ہیں اور اور نہ ہی کسی بھی ایک کول کمپنی نے مزدوروں کو مائنز ایکٹ کے مطابق ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا ہے۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات میں سالانہ سینکڑوں کانکن لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment