بلوچستان کی ساحلی پٹی پر زلزلہ وسونامی آنے کا وقت آن پہنچا ہے،ماہرین

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

گوادر میں 12 جنوری کو رات دو بجے کے قریب 77 سالوں کے بعد آنے والا زلزلہ ایک بار پھر سونامی کے خدشات اور خطرات کو زیر بحث لایا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ محمد ریاض کا کہنا ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر زلزلہ آنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اُن کے مطابق اگرچہ اس کے صحیح وقت کا تعین مشکل ہے لیکن مکران ساحل کے سبڈکشن زون کی فالٹ لائن میں اتنی توانائی جمع ہوچکی ہے کہ کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو ایک سونامی لا سکتا ہے۔

محمد ریاض کے مطابق مکران کے ساحل کے سبڈکشن زون پر آٹھ یا اس سے زائد شدت کا زلزلہ آسکتا ہے جو کراچی اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہ فالٹ لائن اب اپنا قدرتی ’ٹائم سکیل‘ مکمل کر چکی ہے اور سبڈکشن زون کافی سرگرم ہے اور شدت پکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اب وہاں کسی وقت بھی زلزلہ اور پھر اس کے نتیجے میں سونامی آ سکتا ہے جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فٹ بلند لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبے ارضیات کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ ’اس کا تخمینہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ کتنی توانائی پیدا ہوئی اور کتنی خارج ہوئی ہے، کس کو کیا پتہ کہ کل ہو جائے، پانچ سال کے بعد یا سو سال کے بعد، کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔ مکران میں جس طرح کا سبڈکشن ہے ایسا ہی جاپان میں بھی موجود ہے وہ بھی پیشن گوئی نہیں کر پاتے ہیں۔‘

’مکران میں زلزلے اور سونامی سے قبل 1935 میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا تھا، 10 سال کے بعد سے کوئٹہ میں کوئی ’ایکٹویٹی‘ نہیں ہوئی، یہاں تو کئی فالٹ زونز ہیں تو کسی میں بھی ’ایکٹویٹی‘ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا ساحلی علاقہ سبڈکشن زون میں شامل ہے، جو 1000 کلومیٹر کی ایک پوری پٹی ہے جس پر پاکستان کے ساتھ ایران، عمان اور انڈیا بھی موجود ہیں۔

سبڈکشن ایک ارضیاتی عمل ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک سمندری پلیٹ نیچے کی جانب کھسکتی جاتی ہے۔ سبڈکشن زونز میں چونکہ سمندری پلیٹیں شامل ہوتی ہیں وہ ان زلزلوں کے لیے مشہور ہیں جو سونامی پیدا کرتے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبے ارضیات کے پروفیسر نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ زمین کی تین باؤنڈریز ہوتی ہیں ایک ڈائیورجن، کنوریجن اور ٹرانسفارم۔ اسی طرح کنوریجن میں دو تہیں ہوتی ہیں، ایک سبڈکشن اور ایک کولین زون کہلاتی ہیں۔ سبڈکشن کا عمل اس کو کہتے ہیں جب ایک پلیٹ دوسری کے نیچے چلی جائے جو آہستہ آہستہ نیچے ہوتی جاتی ہے۔

ان کے مطابق یہ عمل لاکھوں برس سے جاری رہتا ہے، سونامی تب پیدا ہوتی ہے جب دو بلاکس میں سے ایک نیچے چلا جائے اور دوسرا اوپر آجائے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر دو ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں اور گوادر کے جنوب میں تقریباً 40 ناٹیکل میل کے فاصلے پر وہ پوائنٹ ہے جہاں یوریشین اور انڈین پلیٹس ملتی ہیں جو کہ سبڈکشن زون کہلاتا ہے۔

انڈونیشیا میں سنہ 2004 میں سونامی اور اس کے نتیجے میں آنے والی تباہی کے بعد وہ ملک جو سمندر کے قریب ہیں نے پیشگی اطلاع کے لیے ارلی وارننگ نظام قائم کیا۔

پاکستان میں محکمہ موسمیات کے سونامی وارننگ سینٹر کے سربراہ امیر حیدر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے 20 ارلی وارننگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

’گوادر اور پسنی میں یو این ڈی پی نے سائرن لگائے ہیں۔ کراچی سینٹر میں بیٹھ کر ایک کلک پر سونامی سائرن چلائے جا سکتے ہیں، ہنگامی صورتحال میں شراکت داروں کی پوری فہرست ہے، جن کو ایک خودکار نظام کے ذریعے وارننگ الرٹ جاری ہوجائے گی۔‘

’زلزلے کے تین منٹ میں خودکار نظام کے ذریعے جمع تفریق (کیلکولیشن) ہو جاتی ہے جبکہ مینوئل طریقے سے سات منٹ میں کر لیتے ہیں، دنیا میں جو سونامی ارلی وارننگ سینٹرز ہیں، ان کے ساتھ معلومات اور قابلیت کا تبادلہ کرتے ہیں۔

بلوچستان کی بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا مرکز گوادر اپنے محل وقوع کی وجہ سے سونامی کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے۔

امیر حیدر کے مطابق گوادر دونوں طرف سے سمندر کے حصار میں ہے وہاں کی آبادی کو سائٹ ایریا بھی بنا کر دیا گیا ہے اور وہاں پر باقاعدہ سیڑھیاں بھی بنی ہوئی ہے، ہر علاقے کی مختلف ساءئٹس ہیں، پہلے مرحلے میں کہاں جانا ہے، دوسرے مرحلے میں کہاں پہنچنا ہے اور انھیں بروشر بھی دیے ہیں کہ انھوں نے گھر سے کیا کیا چیزیں اٹھانی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے 2008 میں گوادر میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا، جس میں لوگوں کو سونامی کی آگاہی اور تربیت فراہم کی گئی، اس پراجیکٹ کی کوآرڈینیٹر غزالہ نعیم نے سنہ 1945 کے سونامی کے چشم دید گواہوں کے اپنی ٹیم کے ہمراہ انٹرویوز بھی کیے۔

غزالہ نعیم کا کہنا ہے کہ 50 ہزار بچوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔

مقامی اداکاروں کی مدد سے ڈرامہ بنایا، جو کیبل کے ذریعے چلایا جاتا تھا اور 10 کے قریب کتابچے معلومات اور کہانی کے طرز پر تحریر کیے گئے، گوادر کے علاوہ پسنی میں بھی لوگوں کو بتایا گیا کہ کس طرح نقل مکانی کرنی ہے اور کن مقامات کی طرف جانا ہے۔

’کام میں تسلسل نہیں ہے، پاکستان میں کئی ملین ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں، جاپان سے لے کر یو این ڈی پی اور یونسکو تک کے منصوبے شروع ہوئے۔ ان میں حکومت ساتھ ہوتی ہے اور کام کرتی ہے لیکن جب پراجیکٹ ختم ہو جاتا ہے اس کا تسلسل برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment