طلبا تنظیموں نے 2لاپتہ طالب علموں کی عدم بازیابی کیخلاف کوئٹہ میں گرینڈ احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ طلبا تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔
اجلاس کی صدارت بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی کمیٹی کے ممبر صمند بلوچ نے کی جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زمہ داران اجلاس میں شریک ہوئے۔
پچھلے سال نومبر کے مہینے میں بلوچستان یونیورسٹی سے جبری طور لاپتہ ہونے والے دو طالبعلم سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی بازیابی کیلئے قائم ہونے والی طلبا الائنس کا اجلاس منعقد کیا گیا۔جس میں تمام تر حالات و واقعات اور حکومتی بے حسی کو دیکھتے ہوئے مختلف فیصلے لیے گئے جس کی منطوری الائنس کی جانب سے لی گئی۔
الائنس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود لاپتہ طالبعلم منظر عام پر نہیں لائے گئے.۔دوسری جانب حکومتی وفد کی عہد شکنی اور موجودہ حکومت کی اس حوالے سے خاموشی بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے۔جس سے لاپتہ طالبعلموں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
الائنس نے پرامن سیاسی طریقہ کار کو شروع دن سے اپنایا تھا اور اب بھی اس سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی آواز بلند کرے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 19 جنوری 2022 کو کوئٹہ میں ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا جائے گا جس میں سماج کے تمام تر طبقات کو اس کا حصہ بنانے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں گی۔