کوئٹہ اور ژوب سے 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوگئی ہیں جبکہ بارکھان کے رہائشی ڈاکٹر سندھ کے شہرلاڑکانہ سے لاپتہ ہوگئے۔
مقامی میڈیا ”دی بلوچستان پوسٹ“ کے خبرکے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب و دارالحکومت کوئٹہ سے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
پہلی لاش گذشتہ روز ژوب گنج محلہ سے برآمد ہوئی ہے جو سرکاری اہلکار کی ہے جبکہ ایک لاش کوئٹہ مستونگ روڈ سے انتظامیہ نے برآمد کرکے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ژوب گنج محلہ کے علاقے میں خالی مکان سے برآمد ہونے والی لاش 2 روز سے لاپتہ پولیس اہلکار کی ہے۔
دونوں واقعات کے محرکات تفصیلات میڈیا میں شائع نہیں کی گئیں جبکہ ژوب سے برآمد ہونے والاچند روز میں یہ پانچویں لاش ہے اس سے قبل ژوب میں ایک غار سے مقامی افراد کو چار لاشیں ملی تھیں جو ناقابل شناخت تھے۔
دریں اثنامقامی میڈیا”دی بلوچستان پوسٹ“نے اپنے نیوز ڈیسک کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بلوچستان کے ضلع بارکھان سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر سندھ لاڑکانہ سے لاپتہ ہوگیا ہے۔
بارکھان ویلفیئر کمیٹی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے علاقہ لاڑکانہ کشمور میں پرائیوٹ کلینک چلانے والے ڈاکٹر غلام حسین تین روز قبل لاپتہ ہوئے ہیں۔
سندھ سے لاپتہ ڈاکٹر کی گمشدگی پر بیان دیتے ہوئے بارکھان ویلفیئر سوسائٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر غلام حسین کشمور میں اپنی پرائیویٹ کلینک چلاتے تھے گھر گھر جا کے مویشیوں کا علاج کرتے تھے اور انکا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے جبکہ وہ بارکھان ویلفیئر سوسائٹی کے رکن بھی ہیں۔
بارکھان ویلفیئر سوسائٹی نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے ڈاکٹر غلام حسین اپنے گھر کے واحد کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں نوجوانو کی تعلیم کے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان حکومت اور بار کھان کی ضلعی انتظامیہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سنجید گی سے لیا جائے اور بر وقت کاروائی کر کے ڈاکٹر غلام حسین کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔