چینی کمپنی ایم سی سی ریسورس ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ (ایم آر ڈی ایل) کے چیئرمین ہی زوپنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے سیندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ سے گزشتہ سال مجموعی طور 74ملین ڈالرز کا منافع حاصل کیا گیا جہاں چینی کمپنی ایم سی سی ریسورس ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ (ایم آر ڈی ایل)نے سالانہ 5000ملین ٹن اور کنسنٹریٹ کرکے 16426ٹن بلسٹر کاپر پیدا کیا جن کی مجموعی مالیت پانچ لاکھ پچاس ہزار ڈالر تھی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 19سالوں کی آپریشن کے دوران سیندک پراجیکٹ سے حکومت پاکستان کو اب تک ٹیکسز، دیگر اخراجات اور منافع کی مد 468ملین ڈالر دیا گیا جبکہ اس پراجیکٹ سے 1900افراد برسر روزگار ہیں۔
ایم آر ڈی ایل کے چیئرمین ہی زوپنگ کاکہنا کہ ان کی کمپنی نے پاکستانی حکام کی مدد سے گزشتہ سال کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے 1.98ملین ڈالر خرچ کیے جس کے تحت 1740پاکستانی ملازمین بشمول مقامی رہائشیوں کی ویکسینیشن کی گئی جبکہ 800افراد کو بوسٹر ڈوز لگائے گئے۔
ان کے مطابق 2020میں کورونا وائرس کی تدارک کے لیے مربوط نظام تشکیل دے کر اس وبا سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے حکومت پاکستان کو 43ملین ڈالر کا رقم عطیہ کیا گیا جبکہ خود کمپنی نے ایک کروڑ پچہتر لاکھ روپے کی خوراک بشمول خوردنی تیل کورونا 3312غریب خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔
ان کے مطابق ایم آر ڈی ایل 3000مقامی رہائشیوں بشمول پراجیکٹ میں تعینات سرکاری حکام کو مفت بجلی اور صاف پانی فراہم کرنے کے لیے سالانہ ایک لاکھ ڈالر خرچ کرتی ہے جبکہ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کو مفت تعلیم اور صحت کی بہترین سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی کی مثال بننے والے سیندک پراجیکٹ کے متعلق معاہدے کی تجدید کے بعد دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہے گا۔