جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4546 دن ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کراچی میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے، ٹوٹل 4546 دن مکمل ہوگئے۔

حب چوکی سے سیاسی و سماجی کارکنان علی احمد بلوچ، درا بلوچ، عبدالعزیز بلوچ اور دیگر افراد نے کیمپ آکر لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالا مال سرزمین کے وارثوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا گیا ہے جہاں معمولی میٹرنٹی ہوم تک موجود نہیں لیکن وہاں آرمی کے کئی ایکڑ اراضی پر مشتمل پر آسائش کیمپس ہیں جہاں عالی شان زندگی کے تمام سہولیات موجود ہیں۔

انھوں نے کہا بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اسکول سرے سے موجود نہیں لیکن وہاں اسکول کے نام پر بنائی گئی عمارتوں میں ایف سی کے کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں ہر چند کلو میٹر پر آرمی اور ایف سی کی چوکیاں بنائی گئی ہیں جہاں سے چور ڈاکو منشیات فروش با آسانی گزر جاتے ہیں لیکن کتاب اور قلم ہاتھ میں لیے بلوچ نوجوانوں کو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود حاکم زادہ ہمیں کہتے ہیں کہ بلوچ ترقی کے مخالف ہیں بلوچ تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتے جاہل لوگ ہیں۔

”اگر آپ کی ترقی پر آسائش آرمی ایف سی کیمپس بنانے سے ہوتی ہے جہاں ہمارے پیاروں کو لائن میں کھڑا کر کے گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے۔آپ کی ترقی آرمی اور ایف سی چوکیوں کے ذریعے ہمارے سماج میں منشیات اور اسلحہ کلچر عام کرنا چور اور ڈاکو کو کھلی چھوٹ دینا ہو تو معاف کرنا ہم یقینا ایسی ترقی نہیں چاہتے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اپنے انتہاء کو پہنچ چکی ہیں بلوچستان کے اکثر علاقوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔آئے روز فوجی کارروائیوں کے ذریعے آبادیوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ڈیرہ بگٹی،سوئی،کوھلواور کاھان کے علاقے کی اکثریت پہلے سے نقل مکانی کر چکی ہے۔اب شاپک،شاھرک،ھوشاپ،آواران اور مشکے کے لوگ فوجی سفاکیت کی وجہ سے تیزی سے نقل مکانی کررہے ہیں۔ آرمی اور ایف سی نے علاقوں کو فوجی چھاؤنیوں میں بدلنے کے لیے درجنوں فوجی کیمپ بنائے اور آئے روز عام آبادیوں پر زمینی فضائی بمباری جاری رہتی ہے اس وجہ سے علاقوں کی اکثریت نقل مکانی کرچکی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment