ہماری آپسی اختلافات کے اثرات پُرامن بلوچ جدوجہد پر پڑر ہے ہیں، ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4545 دن ہوگئے۔

اظہاریکجہتی کرنے والوں میں لیبریونین کراچی کے جنرل سیکٹری اور ان کے کا بینہ کے لوگوں سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگ شامل تھے۔

وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفد سے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی بلوچ نسل کشی میں تیزی پیداکردے گئی ہے اور اس پر اگر عالمی اداروں نے نوٹس نہیں لیا اور پاکستان کا ہاتھ نہ روکاتو بلوچستان میں انسانیت کی ایسی تذلیل ہوگی کہ جس کے بارے میں دنیا تصوربھی نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بندش اور اب اغوا اور لاپتہ کرنے کے عمل نے نام نہاد قومپرستوں کی اہلیت قوم پر واضح کردی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے بلوچ خواتین جو بلوچ غیرت وعظمت کی نشانی ہیں کی تذلیل کی جارہی ہے اور وہ ریاست کی گودمیں بیٹھے چندمراعات کے لیے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم ان کے مکر وہ عزائم بھانپ چکی ہے۔قوم پرستی جیسی ٹرم استعما ل کرکے وہ بلوچ قوم کامذاق اڑار ہے ہیں۔ تنظیموں کو تو ڑنے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا وقت گزر چکا ہے بلکہ اب یک مشت ہوکر دشمن کو شکست دیناہے۔بلوچستان بھر میں آپریشن بلوچ خواتین اور سیاسی کار کنوں کا اغوا اور سب سے بڑھ دنیا کو اپنی واحد طاقت دکھا نے جیسے بہت سارے چیلنجز ہیں جن سے مقابلہ کرنے کے لئے اتحاد اولین شرط ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ اگرہم غورسے دیکھیں تو ہمیں بہت ساری کمی وکوتا ئیاں، غلطیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جویقینا تنظیم میں ہوئی ہیں اور وہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں اس پہلوکو ہم ردنہیں کرسکتے مگر ایسی غلطیوں سے سبق سیکھنالازمی ہوتا ہے۔ بلوچستان میں آپریشن مسخ شدہ لاشوں اور اغوا کرنے میں ریاست اور اس کے کارندوں کی جانب سے تیزی آئی ہے۔اوردوسری جانب ہمارے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں جن کے اثرات ان اداروں کی کار کرد گی کے ساتھ ساتھ بلوچ پرامن جدوجہد پر پڑر ہے ہیں۔ اگر یہی صورت حاصل رہی تو بلوچستان میں ریاست اور اس کے دلال اپنی طاقت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment