لسبیلہ: محکمہ جنگلات اور ٹمبر مافیا کی ملی بھگت سے نایاب درختوں کی کٹائی جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں محکمہ جنگلات اور ٹمبر مافیا کی ملی بھگت سے نایاب درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ جنگلات لسبیلہ کے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر اور بیلا رینج فاریسٹ افیسر کی ٹمبر مافیا کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور غیر قانونی پرمنٹس (راہداری)کا اجرا ہوا ہے اور اس مد میں نذرانے کی وصولیوں کے انکشاف بھی ہوئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹمبر مافیا کے پاس زمینداروں کی اراضیات کی کھتونیاں ہوتی ہیں جن پر متعلقہ آفیسر ڈی ایف او لسبیلہ درخت کاٹنے اور لکڑیوں کی ترسیل کے پرمنٹس جاری کرتا ہے۔

پرمنٹ کی محکمانہ طور پر فیس 2500روپے بتای جاتی ہے اور متعلقہ ذمہ دار افیسران 18000ہزار روپے نذرانے کے طور پر وصول کرتے ہیں۔

اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ آر ایف او بیلا نور جتک جو پہلے پانچ سال بعد میں تین سال کا عرصہ بیلا میں گزارنے کے بعد اب دوبارہ بیلا میں تعینات ہیں جس نے درخت کٹوانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور دوسری جانب بیلا مین آر سی ڈی شاہراہ پر چند کی کلو میڑ پر اکیس آرا میشنیں ہیں جہاں سے روزانہ کوئٹہ، قلات، خضدار اور دیگراضلع میں لکڑیوں کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔

عوامی حلقوں نے ڈی ایف او لسبیلہ اور آر ایف او بیلا کی ٹمبر مافیا سے مبینہ ملی بھگت اور بھاری نذرانے وصول کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرمنٹس جاری کرنے کے بجائے درختوں کی کٹائی اور لکڑیوں کی ترسیل پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے چاہیے۔

عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment