اقوام متحدہ کا دورہ پاکستان محکوم اقوام کیلئے مایوس کن رہا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read


اداریہ

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگیتریس بظاہر افغان مہاجرین سے چالیس سالہ جلاوطنی کے موقع پر ان سے اظہاریکجہتی کا پروگرام لے کر وارد ہوا۔لیکن اس وقت نہ صرف ان بے گھر اور وطن سے مہاجرت پہ مجبورافغان قوم کے فرزندوں کو مایوسی ہوئی بلکہ محکوم اقوام نے بھی اقوام متحدہ کے سربراہ کے اس عمل کو تعجب زدہ قراردیا جب انہوں نے خیمہ بستیوں، اور کچھی آبادیوں میں جہاں یہ متاثرین بنیادی سہولیات کے نام تک سے واقف نہیں ان کی جگہ انہوں نے ان کے چند ایک نمائندوں سے اسلام آباد جیسے جدید اور ترقی یافتہ شہر میں ملاقات کرنے کو ہی اپنا فرض عین سمجھا۔


کسی ایسے ادارے کا جو دنیا کے تمام اقوام کے لیے رہنما کردار کا حامل ہو اس کے سربراہ کا یہ رویہ محکوم اقوام کے استحصال کا بدترین نمونہ ہے۔ان علاقوں کو نظر انداز کرنا جہاں 90فیصد سے زیادہ افغان مہاجرین قیام پذیر ہوں اور ان سے کسی ایسے علاقے میں جہاں مہاجرین کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے ملاقات بذات خود اس ادارے کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورے سے قبل بلوچ قوم نے بھی یہ امید لگا رکھی تھی کہ ادارے کے سربراہ کا دورہ پاکستان نہ صرف ان مہاجرین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا بلکہ اس سے بلوچ قوم اور خطے میں بسنے والے دیگر اقوام پشتون، سندھی،ہزارہ اور مہاجرقوم بھی مستفید ہوسکتے ہیں، ان محکوم اقوام کو یہ امید تھی کہ اقوام متحدہ کا سربراہ محکوم اقوام کے خلاف جاری پاکستانی جارحیت پہ خاموشی توڑے گا اور اس سے ان اقوام پہ ریاستی ظلم و بربریت کا طوفان تھم جائے گا۔لیکن اقوام متحدہ کے سربراہ پہ شاید سحر طاری ہوچکا تھا اسی لیے انہوں نے محکوموں کے پہ ڈھائے جانے والے ظلم و جبر پہ چھپ سادھ لینے میں عافیت جانی۔انحصاریت پسندی کی اس پالیسی کی وجہ سے بعض حلقوں میں مایوسی بھی قائم رہی۔


اقوام متحدہ کے سربراہ کا یہ رویہ دیکھ کر دنیا کے محکوم اقوام کو یقیناً یہ ادراک ہوچکا ہے کہ محکوم اقوام کو کسی بھی ادارے یا نام نہاد مہذب ممالک کی جانب انحصار کی نظر سے دیکھنا نہیں چاہیے بلکہ انہیں اپنے زور بازو پہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جستجو کرنی چاہیے۔ جناب سیکرٹری جنرل انتونیوگیتریس کا دورہ دیکھ کر یہ یقین ہوچلا ہے کہ یہ دورہ انسان دوستی سے زیادہ سیاسی مفادات کے حصول پہ مبنی تھا۔کیوں کہ انتونیو گیتریس نے اپنے دورے کے دوران کشمیر کی بابت لب کشائی تو کی پر انہیں بلوچستان میں پاکستان مظالم کی جانب دیکھنا بھی گوراہ نہیں ہوا جہاں آج تک غالباً آٹھ ہزارسے زائد مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں، لگ بھگ پچاس ہزار بلوچ فرزندپاکستانی عسکری اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہوچکے ہیں، دس لاکھ سے زائد بلوچوں کو پاکستان کے عسکری اداروں کے اہلکاروں نے سی پیک منصوبے کی آڑھ میں ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا ہے جن میں سے ایک لاکھ سے زائد افراد ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں جبکہ دیگر متاثرین اندرون سندھ و بلوچستان میں دربدر ہیں۔


بلوچوں کے علاوہ اس خطے میں آؓباد دیگر محکوم اقوام جن میں پشتون، سندھی، مہاجر اور ہزارہ شامل ہیں آج ریاستی غیض و غضب کا شدت کے ساتھ سامنا کررہے ہیں۔ آج کے اس دور جدید میں جہاں لمحہ بھر میں ہم دنیا میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعہ سے باخبر ہوتے ہیں لیکن دنیا کے سب سے بڑے ادارے کا سربراہ جناب انتونیوگیتریس اس خطے میں بسنے والے اقوام کی پاکستانی عسکری اداروں کے ہاتھوں نسل کشی کے باوجود ان سب سے بے تعلق رہا۔اگر اقوام متحدہ کا کردار مستقبل میں بھی یہی رہا تو دنیا کے محکوم اور مظلوم عوام کوشدت کے ساتھ جبر و ستم کے نئے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Share This Article
Leave a Comment