ریکوڈ ک معاہدے پر وکلا کا آج بلوچستان بھر میں عدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلو چستان کے وکلارہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت ریکوڈک کے معاہدے پر بلو چستان کے عوام کو اندھیر ے میں رکھنا چاہیتی ہے اگر ایسا کیا گیا تو وکلا اس اقدام کے خلاف بلو چستان ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

جبکہ ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے کو خفیہ رکھنے کے خلاف آج بلو چستان بھر میں وکلاء تنظیمیں عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گی۔ یہ بات بلو چستان بار کونسل کے وائس چیئر مین قاسم گا جیزئی، راحب بلیدی، مجید دمڑ، ایوب ترین ایڈو کیٹ، ظہو ربلوچ ایڈوکیٹ نے پیر کو ئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ریکوڈک کے معاہدے پر قوم سے سے حقائق کیوں چھاپا رہی ہے ریکوڈک منصوبے میں بلو چستان کے عوام کے سا تھ زیا دتیاں قابل قبول نہیں بلو چستان معد نی و سائل سے مالامال ہے لیکن بد قسمتی سے غربت انتہا درجے کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلو چستان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ریکوڈک کا فیصلہ کس نے اور کہاں سے ہوا ہے بلو چستان کے معدنی وسائل پر غیر قانونی طوپر فروخت قابل قبول نہیں ہے انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلو چستان کو صرف اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ قومی معدنی وسائل کو فروخت کر یں ایک غیر سنجیدہ وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ اٹھاویں آئینی ترمیم کے روح سے صوبے خود مختار ہے اس قسم کے خفیہ معاہدے سے مزید احساس محرومی میں اضا فہ ہو گا بلو چستان کے عوام کا صوبائی حکومت اور وفا قی حکومت سے اعتماد اٹھ جائے گا موجودہ صوبائی حکومت نے اگر کسی بھی ایسے معاہدے کیا جس کے پیچھے عوام کی تائید وحمایت نہ ہو اس کے نتائج خطرنا ک ہو سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت ایسی کمپنی سے معاہدہ کر نے جا رہی ہے۔

جس کے تمام معا ہدے سپریم کورٹ نے29جولائی 1993سے 2001تک بد نیتی پر مبنی قرار دیکر 7جنوری 2013کو کالعدم قرار دیا تھا ویسے بھی بین الا قوامی ڈگری کے اجراء کی کاروائی پاکستان ایکٹ 2011کے تحت عمل درآمد متعلقہ ہائی کورٹ کے ذریعے ہو تی ہے اس لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی موجو گی میں خوف زدہ ہو کر عجلت میں کوئی فیصلہ کر نے سے گریز کیا جائے معاملات وفا ق کی سطح پر طے کر نے کی بجائے صوبہ کو خود مختار بنایا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment