بلوچ جبری لاپتہ فراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4535 دن ہوگئے
بلوچستان یونیورسٹی میں بی ایس او کے یونٹ سیکریٹری ایوب جاموٹ، پی ٹی ایم کے حسام کبزھی اور ان کے ساتھیوں نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کیا۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کالونیل سوچ رکھنے والے حاکم ہمیشہ محکوموں کے پرامن جدجہدکو کچلنے کے لیے تشدد کا استعمال کرتے ہیں۔
ماما قدیر نے کہا کہ جب عوامی جدوجہد میں شدت آتی ہے تو عوام دشمن حکمران اپنے ساکھ کو بچانے کے لیے مختلف حربے استمال کرتے ہیں آج بلوچستان میں بھی اسی طرح ہو رہا ہے۔مختلف مسائل پیدا کرکے لوگوں کونفسیاتی مریض بنا دیا گیا۔
انھوں نے سیاسی کارکنان کو ایک دوسرے کی رائے کے احترام کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہمیں ایک دوسرے کے کردار کو مسترد کرنے کی بجائے قومی جدوجہد کے مختلف جہتوں میں ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کرنا چاہیے۔تنقید کرنے والوں کو کسی کا ایجنٹ قرار دے کر اسے رسوا کرنا ایک سیاسی عمل نہیں نہ ہی ہمیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونا چاہیے۔
”ہم دشمن کی چالاکیوں سے زیادہ اپنی خامیوں کی وجہ سے ان حالات کا شکار ہیں کسی بھی قوم کے لیے اس کے تاریخ ساز کردار قومی وقار اور قومی تشخص جتنے اہم ہوتے ہیں اس لیے زندہ قومیں اپنے شہدا اور جہدکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی خدمات کو اپنے قومی یاداشت میں محفوظ رکھتے ہیں۔“
انھوں نے کہا ہزاروں سیاسی کارکنان کو جبری لاپتہ کرکے اذیت خانوں میں ڈالنے سے قوموں پر تسلط کو برقرار رکھا نہیں جاسکتا، ریاست کی مقتدر قوتیں بلوچ قوم کے بارے میں اس غلط فہمی میں نہ رہیں بلکہ جبری لاپتہ افراد کو فوری رہا کرنا ہی اس کے لیے اچھائی کا باعث ہوگا۔