ایک سال کے دوران 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے،بلوچستان حکومت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر داخلہ ضیا لانگو، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان اور کاؤنٹر ٹیررازم سمیت دیگر شعبوں پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ بلوچستان حکومت نے گزشتہ دو سال میں دہشت گردی کے خلاف 18 نئے قوانین منظور کیے اور 17 نئے محکمے قائم کیے ہیں۔ بلوچستان میں فیس لیس عدالتیں قائم کی گئی ہیں اور بلوچستان حکومت نے 11 لاکھ سے زائد مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ، فرانزک ایجنسی، کوئٹہ سیکیورٹی بورڈ اور نئے کیمروں کی تنصیب سمیت متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ شاہراہوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور آئندہ تین سے چار ماہ میں کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔

ان کے مطابق مختلف نوعیت کے 60 ہزار سے زائد آپریشنز بھی کیے جا چکے ہیں۔

ضیاء لانگو نے کہا کہ دہشت گردی ملک کا ناسور ہے اور اس کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کی غرض سے قانون سازی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کو جو بھی ضرورت ہوتی ہے، بلوچستان حکومت وہ فراہم کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں بھی ایسے اقدامات کیے جاتے تو وہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آتی۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔

وزیر داخلہ بلوچستان نے مزید کہا کہ مشیر کھیل مینا مجید کے بھائی کے اغوا کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف تمام قوانین کی منظوری نہ صرف بلوچستان کابینہ بلکہ بلوچستان اسمبلی نے بھی دی ہے۔

ان کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہونے کی وجوہات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں، جبکہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کبھی ایسے مارچ کی بات نہیں کی گئی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article