نیشنل پارٹی بلوچستان کے ماہی گیر سیکریٹری آدم قادر بخش نے بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پسنی فش ہاربر کے جیٹی کی بحالی کے لیے مختص ایک ارب 14 کروڈ روپے کی گرانٹ کو فوری استعمال میں لایا جائے، چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کے ڈریجنگ پلان پر عمل درآمد کیا جائے اور پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے تنخواہوں سے محروم ملازمین اور پنشنر کو فوری ادائیگیاں کی جائیں۔
”پسنی ہاربر سے حاصل آمدنی سے فش ہاربر ایک خود کفیل ادارہ بن گیا مگر بعد میں ہاربر کی بحالی اور اسے فنکشنل کرنے کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں فعال پسنی ہاربر جیٹی مٹی میں دھنس گیا جو کہ اس وقت فٹبال کے میدان کامنظر پیش کر رہا ہے۔پسنی فش ہاربر کی بحالی عارضی اقدامات سے ممکن نہیں اس کے مستقل بحالی کے لیے پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔“
انھوں نے کہا فش ہاربر کے قیام کے بعد پسنی میں ماہیگیری کا شعبہ تیزی سے ترقی کرنے لگا جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کی بڑی تعداد بر سر روزگار ہوئی۔2008 سے لے کر گذشتہ سالوں میں اب تک پسنی فش ہاربر کی بحالی کے لیے کروڈوں روپے کی گرانٹ بد انتظامی کی وجہ سے رائیگاں گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت پسنی فش ہاربر کی بحالی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ماہی گیروں سمیت ماہی گیری کے شعبہ سے وابستہ کاروباری افراد کے روزگار پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں۔ ماہیگیروں کی کشتیاں کھلے سمندر میں غیر محفوظ ہوچکی ہیں جس سے ماہی گیری صنعت زوال کا شکار ہے۔
”پسنی فش ہاربر میں مستقل ایم ڈی تعینات نہ ہونے کی وجہ سے ہاربر کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے بھی محروم ہیں اور ایم ڈی کا چارج بھی سیکرٹری فشریز کے پاس ہے جس سے ہاربر کے انتظامی معاملات بد انتظامی کا شکار ہوچکے ہیں۔“
علاو ازیں انھوں نے پسنی باغ بازار وارڈ نمبر 3 میں غریبوں کے گھروں کو سرکاری قرار دینے کی بھی مذ مت کی اور اسے افسوس ناک عمل قرار دیا ہے۔
پسنی فش ہاربر کے آکشن ہال کے سامنے کیے گئے پریس کانفرنس میں نیشنل پارٹی کے رہنماء اشرف حسین فیض نگوری، میڈم طاہرہ خورشید، سابق چیئرمین عبدالحکیم بلوچ، سابق وائس چیئر مین خدا بخش سعید، سلام اللہ، ندیم یاسین مجید عبداللہ،یوسف عبدالرحمان، کے ڈی بلوچ،ولید مجید سمیت دیگر کارکنان بھی شریک تھے۔