بلوچستان میں مالی سال 2019-20کے بجٹ میں 14ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا۔
حکومت 9فیصد یعنی 34ارب روپے سے زائد رقم خرچ نہیں کر پائی جبکہ تر قیا تی کا موں کے 20.2فیصد ہی اخراجات کئے جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ سال 2020-21کے دوران حکومت بلوچستان کے مالی سال 2019-20کے بجٹ کے 35فیصد لین دین کا جائزہ لیا ہے جس میں جن میں 14.41889ارب روپے کی با قائدگیاں سامنے آئی ہیں۔
آڈٹ رپور ٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت بلو چستان 2019-20کے بجٹ کے دوران 9فیصد بجٹ خرچ نہیں کر سکی جس سے 34.340ارب روپے خر چ نہیں ہوئے جو کہ حکومت کی کار کر دگی پر سولیہ نشان ہے جبکہ تر قیا تی کا موں کے 20.2فیصد ہی اخراجات کئے جا سکے۔
آڈٹ رپورٹ میں 20مقامات پرتقریبا ساڑھے 5ارب کی ما لی بے قا ئدگیوں کی نشا ندہی کی گئی ہے جبکہ 4مقامات پر میں 31.861ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات کئے گئے۔
رپورٹ میں مقامات پر قومی خزا نے سے کل 3.6ارب روپے سے زائد رقسم کی زائد ادائیگیاں کی گئیں ما لی سال 2019-20کے دوران 3ارب روپے سے زائد اخراجات کا ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا۔
آڈٹ رپورٹ میں 17مقامات پر 1ارب 38کروڑ روپے سے زائد رقم ریکور کر نے کی نشاند ہی کی گئی ہے۔جبکہ چار ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن میں حکومت کو 1ارب 65کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا رپورٹ کے مطابق 18ایسی مثا لیں موجود ہیں کہ جن میں 581.087ملین روپے کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا نہیں کی گئیں جبکہ 2مر تبہ 39.815ملین روپے کی مشکو ک ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حکومت بلو چستان کے ما لی سال 2019-20کے پی ایس ڈی پی کا تخمینہ 108133.643ملین تھا جبکہ حتمی بجٹ گرانٹ 89432.611ملین روپے تھی بجٹ میں نئی اور جا ری اسکیمات میں کل 75028.760ملین روپے اخراجات کئے گئے۔
آڈٹ میں حکومت کے پی ایس ڈی پی کی تشکیل کا عمل غیر مطمئن کن قرار دیا گیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں حکومتی اخراجات کو بہتر بنانے کے لئے کوششوں کو ناکا فی قرار دیا گیا ہے جبکہ اسٹاک اکاؤنٹ یا تو موجود ہی نہیں تھے یا پھر انہیں درست طریقے سے منظم نہیں کیا گیا تھا اور حکومت ٹیکسز اور ڈیو ٹیز بھی حاصل کر نے میں ناکام رہی جبکہ کمیشن اور بھو ل چک سے سر کا ری خز انے کو بھی نقصان پہنچا۔
آڈٹ رپورٹ میں تر قیاتی اسکیمات میں پہلے سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل در آمد نہ ہو نے کی بھی نشا ند ہی کی گئی ہے جبکہ آڈٹیز جنرل آف پاکستان نے سفا رش کی ہے کہ بی پیپرا کی قوانین پر عمل درآمد کیا جا نا چاہیے سول ورک صرف تعمیرات ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کئے جائیں تاکہ تر قیا تی کاموں میں مترا کبت کم سے کم ہو سر کا ری پیسے کو بغیر اجازت نجی بنکوں میں نہ رکھا جائے ریکارڈ نہ دینے والوں کے خلاف کاروائی،ذمہ داروں کے تعین اور ریکور ی کی بھی سفا رش کی گئی ہے۔