ایران اوربلوچستان کے درمیان گولڈ اسمتھ لائن پر عبدوئی کراسنگ پوائنٹ کی بندش کی وجہ سے دو ہزار سے زائد تیل بردار گاڑیاں لائن کی اس طرف ایرانی بندوست میں پھنس گئی ہیں۔
گذشتہ روز جمعرات کی سہہ پہر کو تین بجے مذکورہ کراسنگ پوائں ٹ کو بند کردیا گیا۔
مقامی میڈیا ”ریڈیو زرمبش“کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں پہاڑی گزر گار گاہ سے گزر رہی ہیں اور ایک شخص کہہ رہا ہے کہ پاکستانی فوجی حکام کی طرف سے آئندہ 5 روز کے لیے ابدوئی کراسنگ پوائنٹ کو نقل و حمل کے لیے بند کردیا گیا ہے جس سے گاڑیوں کی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔
گاڑیوں کے ساتھ ہزاروں افراد بھی اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں نے بتایا ہے کہ وہ سخت سردی، بھوک اور پیاس کا شکار ہیں۔
ادھر فوجی ذرائع کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تیل بردار گاڑیاں مذکورہ کراسنگ پوائنٹ آنے سے گریز کریں۔کراسنگ پوائنٹ کی بندش کی وجہ سیکورٹی کے مسائل بتائے جا رہے ہیں۔
بلوچستان بھر میں بلوچ سرمچاروں کی طرف سے پاکستانی فوجی چیک پوسٹوں پر روازنہ کی بنیاد پر حملے ہوتے ہیں ابدوئی کے مقام پر پاکستانی فوج پر حالیہ دنوں ایک سے زائد جان لیوا حملے ہوئے ہیں۔گذشتہ روز بلوچ سرمچاروں کی اتحاد ’براس‘ کے حملے میں 11 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے اوپر ہونے والے ہر حملے کے ردعمل میں پاکستانی فوج عوام کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرتی ہے۔
تربت پریس کلب کے جنرل سیکریٹری ارشاد اختر کے مطابق کل سہ پہر 3 بجے سے عبدوئی گیٹ پاکستانی احکام نے بند کردیاہزاروں لوڈ گاڑیاں گیٹ کھلنے کے انتظار میں باہر کھڑی ہیں۔شدید سردی اور بھوک پیاس سے ہزاروں ڈرائیوروں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ حکومت اور ضلع انتظامیہ کیچ ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری نوٹس لیں۔