بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین،بی این ایم کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل وآزادی پسند رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سماجی ربطے کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر گوادردھرنا کے منتظمین اورحکومت بلوچستان مابین جاری مذاکرات کے حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ
ایسا لگتا ہے کہ حکومت گوادر دھرنے کو ان کے "مطالبات” کی جھوٹی منظوری دے کر ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس طرح انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلباء کو مہلت دینے کے نام پر دھوکہ دے کر احتجاج ختم کیا جبکہ لاپتہ طلباء سہیل اور فصیح ابھی تک لاپتہ ہیں۔