عالمی انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی صدرات میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز،بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کا مشترکہ سیمینار کراچی پریس کلب میں منعقد ہوا سیمینار میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور طلبا و سیاسی پارٹیوں سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
سیمینار سے نصراللہ بلوچ،ماما قدید بلوچ،آمنہ بلوچ،محمد علی تالپور،عوامی ورکر پارٹی کے خرم، آیچ آر سی پی،جقسم اور سندھ ثاجی فورم سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنماں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 73 سالوں سے بلوچوں کے ظلم زیادتیاں ہورہی ہے اور بلوچستان کے وسائل کو سی پیک،سیندک،روڈیک منصوں سمیت مختلف طریقوں سے لوٹا جارہا ہے اور ان سے بلوچ عوام کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ بلوچ آبادی کو گوادر سے بے دخل کیا جارہا ہے اور مقامی ماہی گیروں کو سمندر میں شکار کرنے کے لیے بھی نہیں چھوڑا جارہا ہے جسکے وجہ سے اہل گودار کئی دنوں سے سراپا احتجاج ہے لیکن حکومت مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے مقریرین کا کہنا تھا کہ حکومت اور طاقت ور اداروں کا ہمیشہ سے ہی وطیرہ رہا ہے۔
جب بلوچ ان ناانصافیوں،ظلم و زیادتوں، ماورائے آئین اقدامت اور اپنے جائز حقوق کے حوالے آواز بلند کرتے ہیں تو وہ آواز حکمرانوں اور ملک کی طاقت ور اداروں کو ناگوار گزرتی ہے اور وہ بلوچ طلبا و سیاسی ورکروں جبری طور پر لاپتہ کرکے سالوں سال اپنے زندانوں میں رکھتے ہیں اور ان کی مسخ شدہ لاشی بھی پھنکی جاتی ہے جسکی جتنی مزہمت کی جائے کم ہے۔
مقریرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے اور بلوچستان کے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ قوم کے زخموں پر مرہم پٹی رکھ دی جائے اور انکے جائز مطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
مقریرین نے حکومت یہ بھی مطالبہ کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی اسے سیاسی طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور بلوچستان میں طاقت کی استعمال سے اجتناب کیا جائے۔