گذشتہ دن سرمائی مدت کے لیے کیمپ کو شال سے کراچی منتقل کیا گیا۔جمعرات کے روز کیمپ میں این ڈی پی کے کنوینر شاہ زیب بلوچ اپنے کابینہ سمیت، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر عبدالوہاب بلوچ نے آ کر اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ بھی موجود تھے۔
وی بی ایم پی کے وائس چئیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم ریاستی دہشت گردی اور بلوچ قوم کے بہیمانہ قتل و شہادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔
انھوں نے کہا اس سے قبل خفیہ ایجنسیاں تمام تر انسانی اخلاق کو روندھتے ہوئے بلوچ فرزندوں کو شدید تشدد کے بعد شہید کر کے پہلے پنجاب، کراچی، اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں شہید کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکتی رہی ہیں لیکن اب پالیسی تبدیل کر کے جبری لاپتہ افراد کو ہمسایہ ملک ایران بارڈر سے 40 کلو میٹر اندر جا کر 2 جبری لاپتہ افراد کو شہید کیا گیا جبکہ ایک خوش قسمتی سے گولی لگنے کے باوجود بچ گئے ہیں اور شدید زخمی ہیں جن کی جبری گمشدگی کے سارے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ کہ جابر ریاست نے ثابت کردیا ہے کہ ان درندوں کے پاس خونخواری کے سوا اور کوئی وتیرہ نہیں، قبضہ گیر ریاست نے اب پھر اپنی مجرمانہ کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔
’’گذشتہ کئی دنوں سے تسلسل کے ساتھ بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں تواتر کے ساتھ گرائی جا رہی ہیں ان کی ان حرکتوں سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ان میں سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔مظلوم جبری لاپتہ بلوچوں کو شہید کر کے خوف و ہراس پیدا کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہھوں نے پاکستان کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اور وقت ان کے مکروہ چہروں اور کردار کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
انھوں نے کہا ہم ایک بار پھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظالم ریاست کے ہاتھوں بلوچ قوم کی مسلسل نسل کشی کو فورا بند کروا کر اپنے چارٹر پر عمل درآمد کر کے بلوچ قوم کو پاکستان کے مظالم سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرئے۔