پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار 3 افراد گولیوں سے چھلنی حالت میں گوکڈ سمڈ لائن کے قرہب دریا ہونگ مغربی بلوچستان میں پائے گئے جن میں 2 شہید جبکہ ایک شدید زخمی حالت میں ہے۔
شہیدہونے والے کی شناخت میرخان محمد شاہوانی اور اسداللہ ولد ناصر سکنہ مند کے نام سے ہوگئی جبکہزخمی ہونے والے کی شناخت غلام قادر ولد عبداللہ سکنہقلات کے نام سے ہوگئی ہے۔
مقامی میڈیا ”زرمبش ریڈیو“ نے اپنے مصدقہ ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکاروں نے زیرحراست جبری لاپتہ 3 افراد کو ہنگ کے مقام پر پیر کور میں لاکر گولیاں ماریں جس سے دو افراد شہید جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔
شہید ہونے والوں میں ایک شخص کی شناخت اسد ولد ناصر سکنہ مند کے نام سے ہوئی ہے جو کہ شہید یاسر کے بڑے بھائی تھے انھیں دو سال قبل پاکستانی فوج نے ان کے گھر سے جبری لاپتہ کیا تھا۔
ادھر ہسپتال کے ذرائع سے پتا چلا ہے کہ زخمی شخص کے جبڑے پر گولیاں لگنے سے وہ بات کرنے کے قابل نہیں لیکن انہوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ وہ ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے مرکزی قصبہ تمپ میں پاکستانی فوج کے زیر حراست تھے اور وہ قلات کے رہنے والے ہیں۔ انھیں قلات میں گرفتاری کے بعد تمپ منتقل کیا گیا تھا اور انہیں پاکستانی فوج نے ہنگ میں لاکر گولیاں ماریں۔
جائے وقوع سے ایک شناختی کارڈ بھی ملا ہے جس پر نام ’غلام قادر ولد عبداللہ‘ اور موجودہ پتہ’کلی کمبرانی، شیشہ ڈگار ڈاکخانہ قلات، تحصیل و ضلع قلات درج ہے۔
شہید ہونے والے اسد ولد ناصر سکنہ نوکیں کھن مند کی بہن کے مطابق انہیں یکم جولائی 2019 کو نوکیں کہن میں واقع ان کے گھر سے گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا۔ اسد کے چھوٹے بھائی یاسر کو بھی جبری لاپتہ کرکے شہید کیا گیا تھا۔
شہید اسد چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے جو گذشتہ تین سالوں سے پاکستانی عقوبت خانے میں قید تھے۔ان کے اہل خانہ نے ان کی رہائی کے لیے میڈیا کمپئن بھی چلائی تھی۔اسد شادی شدہ تھے اور ان کے دو بچے ایک بیٹا اور بیٹی ہیں۔
زیرحراست قتل کیے گئے شہید میرخان محمد شاہوانی کے بھائی بشیر احمد کے مطابق خان محمد کو 17 جون 2019 کو زہری سے لیویز اہلکار اور پاکستانی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیاتھا۔ 15 جولائی 2019 کو ان کے بھائی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں جاکر اپنا احتجاج رکارڈ کروایا تھا، جسے میڈیا میں بھی رپورٹ کیا گیا۔