گوادر اور شاہرگ سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 2افراد جبری طورپرلاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گوادر اور شاہرگ سے پاکستانی فورسز نے 2افرادکو حراست میں لیکر جبری طورپرلاپتہ کردیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع گوادر سے پاکستانی فورسز نے طالب علم کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جس کے حوالے سے کسی قسم کی معلوم نہیں مل سکی ہے۔

مقامی میڈیا ”ٹی بی پی“نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پشکان کے رہائشی طالب علم رمیز اختر کو یکم دسمبر کی رات تربت یونیورسٹی گوادر کیمپس کے ہاسٹل سے پاکستانی فورسز اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فورسز کی بھاری نفری نے ہاسٹل کو گھیرے میں لیکر چھاپہ مارا، مذکورہ طالب علم کے چہرے پر کپڑا باندھ کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

ضلعی حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

دریں اثنابلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پے منتقل کردیاہے۔

لاپتہ شخص کی شناخت بلوچ ولد غلام نبی کے نام سے ہوئی ہے۔

مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ مذکورہ شخص کو 29 نومبر کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے شاہرگ کے علاقے سے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔

مذکورہ شخص بنیادی طور سبی کے علاقے ببرکچ کا رہائشی ہے جبکہ ہرنائی میں مالداری کے سلسلے میں رہائش پذیر تھا۔

Share This Article
Leave a Comment