اصلی اور حقیقی بلوچستان کی تقسیم ہر گز نہیں چاہتے، محمود اچکزئی

ایڈمن
ایڈمن
15 Min Read

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی نائب صدر محمود خان اچکزئی نے سالار شہدا خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کی 48ویں برسی کے مرکزی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انگریزی استعمار کی استعماریت کیخلاف جدوجہد کرتے ہوئے اس خطے میں سب سے پہلے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے سیاست کی بنیاد رکھی اور خان شہید ہی نے 1887ء میں بننے والے چیف کمشنر صوبے برٹش بلوچستان کو گورنر کے صوبے کی حیثیت دلانے کا مطالبہ کیا اور خان شہید نے ضد امپیریلزم، ضد فیوڈلزم اور جمہوری سیاست کو آگے بڑھاتے ہوئے پہلی سیاسی پارٹی انجمن وطن کے قیام کو ممکن بنایا اس کے بعد جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے ورور پشتون پارٹی بنائی اورپھر پاکستان کے قیام کے بعد صوبہ پشتونستان کی تشکیل کا تصور پیش کیا۔

نیپ سے اختلاف کے بعد اپنے پارٹی کے نام کے ساتھ پشتونخوالفظ کا اضافہ کیا جو تاریخ میں خوشحال خان خٹک اور احمد شاہ بابا کے بعد واحد رہنماء ہے جس نے پشتونخوا لفظ کے ذریعے اپنی ملت کو اپنے وطن کی جغرافیہ سے آگاہی دی۔ اصلی اور حقیقی بلوچستان کی تقسیم نہیں چاہتے،پاکستان میں مسلسل بحرانوں کا سبب ملکی آئین پر عملدرآمد سے مسلسل انحراف ہے، پاکستان کی ترقی وخوشحالی اور استحکام کی راہ حقیقی جمہوری پاکستان میں ہے۔ نوازشریف اب بھی ملک کے جمہوری عوام کے مقبول رہنماء ہے، افغانستان کے استقلال کی ضمانت اور اُس کی ارضی تمامیت کا تحفظ سب سے اہم ہے۔

محمودخان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خان شہید نے فرنگی سامراج کے خلاف ایسے گھمبیرحالات میں جدوجہدکی شروعات کی جب برٹش بلوچستان سمیت مختلف پشتون علاقے انگریز سامراج نے افغان انگریز دوئم جنگ اور گندمک معاہدے 7مئی 1879ء کے نتیجے میں افغانستان سے کاٹ کر ہندوستان کا حصہ بنایا۔ اورAssigned ڈسٹرکٹ کی حیثیت سے اپنے پاس رکھا اور پھر 1887ء میں چیف کمشنر برٹش بلوچستان کا صوبہ بنایا۔

جس میں مری اور بگٹی کے بلوچ علاقے بھی شامل تھے اور بعد میں پہلے چاغی نوشکی اور اُس کے بعد نصیر آباد کے علاقے اجارہ پر لے کر برٹش بلوچستان میں شامل کیئے۔خان شہید نے انتہائی کم عمری میں جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے چیف کمشنر کے برٹش بلوچستان صوبے کو مکمل گورنر کے صوبے کی حیثیت دلانے اور اصلاحات کرنے کا مطالبہ کیا اور اس مطالبے میں انھیں عبدالرحمن بگٹی،عزیز کرد، جام نور اللہ، محمد حسین عُنقا، شہباز خان نوشیروانی جیسے بلوچ اکابرین کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اور اپنی پہلی اور دوسری گرفتاری کے بعد جدوجہد کو دوام دیتے ہوئے انجمن وطن پارٹی کی بنیا د رکھی۔ اور اُس کی جانب سے برٹش بلوچستان چیف کمشنر صوبے کو گورنر کے صوبے کا درجہ دلانے کی حمایت قائداعظم محمد علی جناح، گاندھی جی اور اُس وقت کے دوسرے رہنماؤں نے بھی کی تھی۔ اور پشتونخوامیپ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو یہ افتخار بھی حاصل ہے کہ اُس کی تحریک کے بانی رہنماء یعنی خان شہید نے ہی یہاں سامراجیت اور فیوڈلزم کے خلاف سیاسی جمہوری جدوجہد کی بنیاد رکھی۔

اور فرنگی سامراج کو نکالنے کے بعد پاکستان کے بننے کے بعد پشتونخوا وطن پر مشتمل ایک دوسرے سے مربوط پشتون علاقوں پر صوبہ پشتونستان کی تشکیل کا تصور پیش کیا۔ اور اس سے پہلے ورور پشتون پارٹی بنا کر اعلیٰ انسانی اور اسلامی اقدار پر مبنی انسانی برابری اور ایک فرد کا فرد پر،ایک طبقے کا طبقہ پر، ایک فرقہ کا فرقہ پر ظلم اور ایک قوم کی دوسرے قوم پر بالادستی نہ رکھنے اور مساوات پر مبنی پروگرام پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی درس بھی یہی ہے کہ اچھا مومن وہ ہے جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے اُسے دورسروں کیلئے بھی پسند کرے۔

اور سالار شہدا خان شہید نے اس صبر آزما اور قید وبند کی صعوبتوں سے بھری جدوجہد کے دوران نیپ کے قیام کے بعد اس بات کو یقینی بنایا کہ نیپ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے تاریخی لسانی،جغرافیائی اور ثقافتی بنیاد پر صوبوں کی تشکیل کیلئے جدوجہد کریگی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے اس اصول پر ہمیشہ اور ہر قسم کے حالات میں عمل کرنا ہوگا کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینا ہوگاچاہے ان کا تعلق کسی بھی زبان،نسل اور مذہب سے ہو۔ اور دوسروں کے حق پر قبضہ کرنے کی روش سے لازماً اجتناب کرناہوگا۔

دوسروں کے حق پر قبضہ غلط گناہ اور ناقابل برداشت ہے اور اپنے حق سے کسی بھی صورت دستبردارہونا بے غیرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے پارٹی کو ہر سطح پر وسیع اور منظم کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا اور ہر سطح پر یونٹوں کے قیام میں اضافہ کرتے ہوئے اُن کی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ کردار اور اخلاق کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگااور جنوری میں پارٹی کانگریس کے انعقاد کو ممکن بنانے کی کوشش کی جائیگی۔ انہوں نے ون یونٹ کے قیام اُس وقت کے برٹش بلوچستان کے چیف کمشنر بہادر خان (جنرل ایوب خان کے بھائی) اور مغربی پاکستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب (باچا خان کے بھائی) کے رویے اور طرز عمل اور ڈاکٹر خان صاحب کی برٹش بلوچستان سے انتخابات میں امیدوار بننے اور خان شہید اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خان شہید نے ساری زندگی کی طرح اُس وقت بھی ہر قسم کے مراعات کو مسترد کرتے ہوئے ون یونٹ کیخلاف جدوجہد کرتے ہوئے قوموں کے حقوق اور ون مین ون ووٹ کے حق اور عوام کے حق حکمرانی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔

جس پر ڈاکٹر خان صاحب نے پریس کانفرنس میں اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں زندگی میں پستول کے ذریعے کسی کو مارنا چاہتا تو وہ عبدالصمد اچکزئی ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز بھی پشتونخوامیپ کے کارکنوں کو حاصل ہے کہ اس کے اس جاری تحریک کے بانی رہنماء نے نیپ سے اختلاف کے بعد اپنی پارٹی کے نام کے ساتھ پشتونخوا لفظ کا اضافہ کرتے ہوئے پاکستان میں ایک دوسرے سے مربوط پشتونخوا وطن کے تمام عوام کو اپنے وطن کے جغرافیہ سے آگاہی دی۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ بلوچ رہنماء غوث بخش بزنجو صاحب سے بستر علالت پر یہ وعدہ اُن کے کہنے پر کر چُکا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ہم نے سیاست میں جو کچھ سیکھا ہے وہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی سے سیکھا ہے اور عبدالصمد خان اچکزئی ہمارے اُستاد تھے۔

اور آپ (محمود خان اچکزئی) نے جاری جدوجہد کے دوران بلوچستان اور بلوچ عوام کی دگرگوں حالت کو ہر صورت مد نظر رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اور میں نے اپنی بساط کے مطابق اس وعدے کو نبھاتا رہا ہوں۔ اب یہ وقت آچکا ہے کہ ہم جھالاوان،سراوان، خان قلات سمیت بلوچ اکابرین اور بلوچ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل بیٹھ کر یہ بات طے کرلیں کہ اس دو قومی صوبے کو برابری کے اصولوں پر چلانے کیلئے اصول طے کریں۔ اور اگر خدانخواستہ ہم دونوں اقوام صوبے کو مشترکہ بنیادوں پر چلانے کیلئے متفق نہیں ہوتے تو یہ ہمارا حق ہے کہ برٹش بلوچستان کی پشتون اکثریت علاقوں پر اپنے صوبے کا مطالبہ کریں اور ہم اصلی اور حقیقی بلوچستان کی تقسیم ہر گز نہیں چاہتے۔

بلکہ اگر پشتون اور بلوچ اقوام سیاسی جمہوری اصولوں کو اپناتے ہوئے اس صوبے کو مشترکہ طو رپر چلانے کے اصولوں پر متفق ہوجاتے ہیں تو دونوں اقوام کی سیاسی جمہوری قوتیں ملکر ایک موثر سیاسی جمہوری تحریک کو چلاسکتے ہیں اورگوادرسمیت بلوچ قوم کو درپیش مشکلات کو جمہوری جدوجہد کے ذریعے کم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پر مسلط چالیس سالہ جنگ کے بعد روس اور امریکہ دونوں شکست کھاگئے اب افغانستان کی استقلال کی ضمانت اور اُن کی ارضی تمامیت کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ موجودہ افغان حکومت کی عبوری کابینہ نے بھی ان حالات کا ادراک کرتے ہوئے ایسی راہ اپنانی ہوگی جس میں ایک ایسی وسیع البنیاد نمائندہ حکومت کا قیام ہو جو افغانستان کی استقلال کی حفاظت کرتے ہوئے اُن کے قومی جھنڈے کو بلند رکھیں۔

جبکہ دنیا کے جن ممالک کی جانب سے مسلط جنگ کے باعث افغانستان کے تمام انفراسٹریکچر اور عوام درپدر ہوئے ہیں ان کی تعمیر نو اور عوام کی ترقی وخوشحالی کا فروغ میں اُن تمام ممالک پر قرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی شہید عثمان کاکڑ کے جنازے کے مراسم میں صوبے کے تمام سیاسی قوتوں کے نمائندے موجود تھے اور انہوں نے عثمان شہید کی شہادت کے خلاف آواز بلندکرنے کے وعدے کیئے تھے لیکن جب صوبائی اسمبلی میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے حوالے سے پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے قرار داد پیش کی تو اُن پر ان سیاسی قوتوں کے نمائندوں کی خاموشی اور عدم دلچسپی قابل افسوس تھی۔انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی ضمانت کی منظوری خوش آئند ہے اُن کے بڑے بھائی فاروق خان وزیرشہید پارٹی کے رہنماء اور کارکن تھے اُن کے خاندان کے ساتھ جو ظلم وجبر ہوا او جو دردناک واقعات رونماء ہوئے ہم پارٹی قیادت نے اُس وقت وزیر ستان جاکر اپنی حاضری یقینی بنائی ہے ہم نے 1996کے اسمبلی میں وسطی پشتونخوا (فاٹا) کی صورتحال پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے حکمرانوں سے کہا تھا کہ فاٹا کے عوام پر جو غیر اعلانیہ جنگ اوربدترین حالت مسلط کی گئی ہے اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہونگے۔

اور پھر اُس وقت اخباری پمفلٹ کے ذریعے فاٹا کی حقیقت کو تمام ملک کے عوام پر روشناس کرائی تھی اور فاٹا انضمام کے وقت بھی ہمارا موقف انتہائی واضح تھا اور اب پھر کہاں جارہا ہے کہ فاٹا کو مرکز کے زیر انتظام لایا جائے۔ تو ہم پھر یہ واضح کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں فاٹا کا گورنر فاٹا کے عوام منتخب کریں اور ان کے ایجنسیوں کے منتخب جرگے بااختیار ہو اور ڈپٹی کمشنر اُس کے تابع ہو۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات خوش آئندہے میں پشتونخوا وطن کے تمام سیاسی قوتوں کو تجویز کرتا ہوں کہ ٹی ٹی پی کے کارکن اسی مادر وطن کے بچے ہیں اُن سے بلاجواز اختلاف کی بجائے اُن کے ساتھ ملکر ہمارے عوام کو درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات کی راہ اپنانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمار املک ہے اور اس کے استحکام اور ترقی وخوشحالی کا راستہ حقیقی جمہوریت کی بحالی اور ملکی آئین پر من وعن عملدرآمد کرانے میں ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ جو شخص خودکو فروخت کررہا ہو یا دوسرے افراد کو رشوت کے ذریعے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بنانے کی راہ اپناتے رہے ہو ایسے افراد کے ذریعے ملک اور صوبے چلانا کسی بھی صورت ممکن نہیں اور نہ ہی ملکی استحکام اور ترقی وخوشحالی کا منزل حاصل کیا جاسکتاہے۔ پاکستان اُس وقت زندہ آباد ہوگا۔

جب پشتون بلوچ سندھی پنجابی اور سرائیکی قوموں کی برابری کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے ملک کو آئین کی بالادستی،پارلیمنٹ کی خودمختاری، عدلیہ ومیڈیا کی آزادی،قوموں کی برابری پر رضاکارانہ فیڈریشن کی تشکیل کے اصول پر گامزن ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کے کارکنوں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُن کے بانی رہنماء نے یہاں کے اقوام وعوام کو ووٹ کا حق دلاکر انہیں سیالی اور برابری کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے ملک کے موجودہ سنگین صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنے سیاسی بیانیوں میں دوسرے اقوام وعوام کیلئے بلاجوازالفاظ سے گریز کی پالیسی عمل کرنا ہوگا کیونکہ ملک کے اقوام وعوام کی مکمل اکثریت پی ڈی ایم کے 26نکاتی بیانیہ کی بھرپور حمایت کررہی ہے اور پی ڈی ایم کا بیانیہ ملک کو حقیقی جمہوری راستے پر گامزن کردیگاجو خان شہید اور دوسرے اکابرین کا تاریخی بیانیہ ہیں۔ ہمیں پی ڈی ایم کی جاری تحریک میں میاں محمد نوازشریف کے تاریخی رول کی ستائش کرنی ہوگی جو اب بھی ملک کے جمہوری تحریک میں عوام کے مقبول رہنماہے۔

Share This Article
Leave a Comment