جعلی مقابلوں کے نام پر نہتے بلوچوں کا حراستی قتل کیا جا رہا ہے،ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4513 دن ہوگئے ہیں۔

جمعرات کے روز کیمپ میں خان گڑھ جیکب آباد سندھ سے جسقم کے ضلعی عہدیداروں علی حسن سومرو، نورمحمد ابڑو اور اور دیگر نے آکر جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔

وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ پشتون اور سندھی اقوام کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے حالات میں بدلاؤ کے لیے پر امن جدوجہد میں عملی کردار ادا کریں۔

انھوں نے کہا بلوچ جھدکاروں کی جدوجہد اور شہدا کی قربانیوں کی بدولت ریاست کو اپنی ظالمانہ پالیسیاں جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے وہ اپنی جائز گرفت کو برقرار رکھنے کے لیے بلوچ نسل کشی میں اضافہ کر رہی ہے۔ سیاسی کارکنان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

”بلوچ فرندان کو چن چن کر قتل کیا جار ہے۔ صورتحال پوری قوم اور دنیا کے سامنے ہے مچ بولان، مستونگ اور ڈیرہ بگٹی میں جبری لاپتہ بلوچ فرزندان کو شہید کرکے سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے کا ڈرامہ رچایا گیا جبکہ مکران کے کئی علاقوں میں سول آبادیوں پر فوجی طاقت کو بے دریغ استعمال کرکے بلوچ قوم کو ان ہی کی زمین پر بے عزت کیا جا رہا ہے۔ سیاسی کارکنان کو گھروں میں گھس کر شہید کیا جاتا ہے۔پر امن مظاہروں پر لاٹھی چارج اور جنازوں میں شریک افراد کو غائب کیا جار ہاہے۔“

انھوں نے کہا اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں جبری لاپتہ افراد کے معاملے کو سیڑھی بناتے ہیں تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکا جاسکے مگر ایسی کئی حکومتی آئی گئیں جنھوں نے جبری لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن آج بھی جبری لاپتہ افراد کا کیمپ قائم ہے۔یہاں ہر بلوچ شہید اور جبری لاپتہ افراد کے لواحقین آکر جمع ہوتے ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے آہ و فریاد کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے ریاستی مظالم کو افشاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماماقدیر بلوچ نے مزید کہا کہ آج پاکستان کے لیے لفظ بلوچ ایک گناہ و جرم ہے اور وہ محض بلوچ ہونے کی بنیاد پر مار رہا ہے۔چاہے بلوچ اپنے گھر میں خاموش بیٹھا ہے یا تحریک کا حصہ ہے یا کسی قومی جہدکار کا رشتہ دار ہے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں نے اسے مارنا ہے۔کل کی بات ہے مستونگ اسپلنجی میں جبری لاپتہ مری بلوچوں کو اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ بلوچ تھے اور ریاست کے لیے بلوچ کے جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں۔اس لیے تسلسل کے ساتھ جعلی مقابلوں کے نام پر نہتے بلوچوں کا حراستی قتل کیا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment