بھائی کو پولیس نے گرفتاری کے بعد خفیہ اداروں کی تحویل میں دیا،ہمشیرہ عامراکبر کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

جبری لاپتہ محمد عامر ولد محمد اکبر کی بہن نازیہ اکبر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بھائی عامر ولد محمد اکبر کو 23 نومبر کی رات گڈانی پٹرول پمپ تحصیل حب سے پولیس اہلکاروں نے گرفتاری کے بعد ساہ لباس میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے حوالے کیا جنہوں نے انہیں حراست میں لینے کے بعد تب سے کے آج تک جبری لاپتہ رکھا ہے اور ہمیں اپنے بھائی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جا رہی۔

انہو”اگر میرا بھائی مجرم ہے تو اسے پولیس والوں نے بغیر کسی وارنٹ کے کیوں گرفتار کیا؟“

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ بھی موجود تھے۔

نازیہ اکبر نے اپنے پریس کانفرنس میں مزید کہا ضلع آواران کی مخدوش اور جنگی صورتحال اور گھروں کو جلانے کے باعث ہم سن 2015 کو نقل مکانی کرکے ھب منتقل ہوئے تاکہ یہاں تعلیم اور روزگار کے لیے آسانی ہو لیکن یہاں بھی ہمارے بھائی کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔آخر میرے بھائی سے ایسا کون سا جرم سرزد ہوا کہ اسے خفیہ اداروں کے اہلکار اٹھا کر لے گئے۔اگر میرا بھائی مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟

انھوں نے کہا میرے بھائی کی جبری گمشدگی صرف ان کی جبری گمشدگی نہیں بلکہ ہمارے خاندان کا معاشی قتل ہے۔کیونکہ میرا بھائی بیماری کی حالت میں بھی معاشی تنگدستی اور معاشی مجبوری کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور تھا لیکن اسے اغوا کرکے ہمیں معاشی، جسمانی اور ذہنی حوالے سے اضطراب کا شکار بنایا گیا۔

نازیہ اکبر کے جبری لاپتہ بھائی محمد عامر ہڈیوں کی ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس کا علاج بھی چل رہا ہے۔ٹی بی مریضوں کو مرض کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اپنی دوائیاں ایک خاص مدت تک بلا ناغہ لینی ہوتی ہیں اگر اس دوران مریض ایک دن کا بھی وقفہ کرئے تو اسے دوبارہ ابتدا سے کورس شروع کرنا پڑتا ہے۔اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ٹی بی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

اگر میرا بھائی مجرم ہے تو اسے پولیس والوں نے بغیر کسی وارنٹ کے کیوں گرفتار کیا؟ گرفتاری کے بعد میرے بھائی کو کیوں سادہ وردی میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے حوالے کردیا گیا؟

اس واقعے کے بعد ہمیں کیوں ہمارے بھائی کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی گئی؟

ضلع آواران کی مخدوش اور جنگی صورتحال اور گھروں کو جلانے کے باعث ہم 2015 کو نقل مکانی کرکے حب منتقل ہوئے تاکہ یہاں تعلیم اور روزگار کے لیے آسانی ہو لیکن یہاں بھی ہمارے بھائی کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔ آخر میرے بھائی سے ایسا کون سا جرم سرزد ہوا کہ اسے خفیہ اداروں کے اہلکار اٹھا کر لے گئے۔اگر میرا بھائی مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟

میرے بھائی کی جبری گمشدگی صرف جبری گمشدگی نہیں بلکہ ہمارے خاندان کا معاشی قتل ہے۔کیونکہ میرا بھائی بیماری کی حالت میں بھی معاشی تنگدستی اور معاشی مجبوری کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوا لیکن اسے اغوا کرکے ہمیں معاشی، جسمانی اور ذہنی حوالے سے اضطراب کا شکار بنایا گیا۔

ہم آپ صحافی حضرات سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگی کے خلاف چپ کا روزہ توڑ دیں اور ہمارے پیاروں کی جبری گمشدگی کو اپنے خبر کا حصہ بنائیں کیونکہ بلوچستان میں آپ کی جانبداری نے انسانی المیہ کو جنم دینے میں کردار ادا کیا ہے۔

ہم آپ کے توسط سے سپریم کورٹ اور دیگر اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے بھائی کو بازیاب کیا جائے اگر اس کا کوئی جرم ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے بلاجواز جبری گمشدگی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور خاندان کا معاشی قتل عام ہے۔

Share This Article
Leave a Comment