گوادر: سی ٹی ڈی کی طرف سے جعلی مقدمے میں گرفتار 3 نوجوان رہا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جھوٹے مقدمے میں گرفتار گوادر کے تین نوجوانوں کو رہا کردیا گیا۔

مقامی میڈیا ”ریڈیو زرمبش“ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہپیر کے روز گوادر سے جبری لاپتہ تین نوجوانوں کو رہا کردیا گیا ہے جن میں عارف ولد در محمد اور عادل ولد نبی بخش بھی شامل ہیں جبکہ تاحال تیسرے نوجوان کا نام معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

واضع رہے کہ گوادر شہر سے عارف در محمد، عادل نبی بخش، قاسم ہاشم اور عبد المطلب ولد محمد حسن نامی نوجوانوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا تھا جس کے ردعمل میں ان کے لواحقین نے گوادر میں ان کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ قائم کیا تھا۔

گوادر میں جاری حق دو تحریک کے دھرنے کے اہم مطالبات میں سے ایک مطالبہ گوادر کے جبری لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی بھی تھی۔

بعد ازاں ان میں سے عارف در محمد اور دیگر کی گرفتاری پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ظاہر کی اور ان پر بی ایل اے کے فدائی حملے میں معاونت کار ہونے کا الزام عائد کیا۔

سی ٹی ڈی نے عارف در محمد کے کوسٹ گارڈ کے ہاتھوں قتل ہونے والے والد پر بھی سنگین الزام عائد کیا تھا۔جو اپنے قتل سے قبل جبری گمشدہ بھی رہے تھے۔ان کے قاتل پاکستان کوسٹ گارڈز کے اہلکار تھے جنھیں سزا بھی ہوچکی ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے لواحقین کے مدعیت میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق چھ جون 2020 کی شب تین کوسٹ گارڈز نے گوادر کے گول چوک کے قریب در محمد اور دلمراد کو قتل کیا۔دلمراد ایک فٹبال اور نوجوان فنکار تھے جن کی کچھ دن بعد شادی ہونے والے تھی۔

سنگین جھوٹے الزامات لگانے کے بعد سی ٹی ڈی کی طرف سے ان کی رہائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں زیر حراست اور جبری لاپتہ لوگوں پر لگائے گئے الزامات کے متعلقہ اداروں کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment