آل پارٹیز کیچ نے متفقہ طور پر گوادر دھرنے کی حمایت اور دھرنے میں شامل ہوکر مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ اظہار یکجہتی کا فیصلہ کیا ہے۔
مقامی میڈیا گدروشیاپوائنٹ کے مطابق آل پارٹیز کیچ کا اجلاس زیر صدارت کنوینر مشکور انور بلوچ کے منعقد ہوا۔
اجلاس میں ڈپٹی کنوینر فضل کریم، پریس سیکرٹری حفیظ علی بخش، جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی مولانا حفیظ مینگل، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نواب شمبیزئی اور حاجی قدیر احمد بلوچ، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر واجہ غلام یاسین، بی این پی عوامی کے ضلعی صدر ظریف بلوچ، جمعیت الحدیث کے رہنما یلان زعمرانی، کیچ سول سوسائٹی کے رہنما التاز سخی اور عومرہوت اور ضلع کے سینئیر صحافی ماجد صمد نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر گوادر دھرنا ”حق دو تحریک” کی حمایت اور دھرنے میں شامل ہوکر مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں حق دو تحریک کے بنیادی مطالبات غیر قانونی ٹرالنگ، بارڈر کاروبار کی بندش، سیکورٹی فورسز کے غیر ضروری چیک پوسٹوں اور عوام کی تذلیل کے خاتمے اور منشیات پر مکمل پابندی کے مطالبات کو جائز سمجھتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز کے رہنماؤں نے کہا کہ عوام کے حقیقی مسائل سے چشم پوشی سے روز بروز حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے عوامی غصے اور مایوسی میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔
اجلاس میں گورنر بلوچستان کی جانب سے احتجاجی مظاہروں اور عوامی ریلیوں پر پابندی کے نوٹیفیکشن کی مذمت کی گئی اور اسے آئین کے متصادم اقدام قرار دیکر مسترد کیا گیا۔