بلوچستان ایران بارڈرپرمزدوروں کے جسموں کوبطورٹوکن نمبر استعمال کرنیکاآغاز

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے بارڈرسیکورٹی فورسز نے بلوچستان ایران بارڈرپرکاروبار کرنے والے مزدوروں کے جسموں کوبطورٹوکن استعمال کرنیکاغیر انسانی و غیراخلاقی کام کاآغازکردیا ہے۔

کاروبار کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہماری اس طرح تذلیل کی جارہی ہے جیسے ہم انسان نہیں کوئی چیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کے لیے ٹوکن سسٹم کو کاغذوں کی بجائے اب ہماری جسموں پر منتقل کیا گیا ہے جہاں ہر گاڑی ڈرائیورکے ہاتھ پر ٹوکن نمبر لکھا جا رہا ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ جو شخص بارڈر پر قانون کی نظر میں غیر واضح تجارت کرنا چاہتے ہیں یا ایران سے ایندھن اور دوسری اشیاء لانا چاہتے ہیں ان کے ہاتھوں پر پاکستانی فورسز مارکر سے نمبر لکھ کر ان کی رجسٹریشن کر رہے ہیں۔

واضع رہے کہ گوادر میں ”گوادر کوحق دو“ تحریک کا دھرنا تیرہویں دن میں داخل ہوچکا ہے جس کے مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ سرحدی تجارت میں ٹوکن سسٹم کا خاتمہ ہے۔

عوامی حلقے اسے لوگوں کی تذلیل اور ٹوکن سسٹم سے بدتر قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے زیادہ استعماری حکمرانی کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ کاروبار کے لیے لوگوں کے جسم پر نمبرز لکھے جائیں یہ صرف تذلیل نہیں بلکہ انتہائی درجے کی تذلیل اور انسانیت کی توئین ہے۔

ایک اور صارف سعدیہ بلوچ نے لکھا کہ حق حلال کی روزی کمانے والے ہاتھ اور پسینہ بہانے والے مزدور پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔ لیکن اقتصادی ناانصافی اور کالونیل سماج میں بھی, قابل احترام مزدور کے ہاتھ کو بطور ٹوکن استعمال کرنا قابلِ نفرت اور غلامی کی شکل ہے۔

ٰایران بلوچستان بارڈر پر تجارت کیلئے پہلے ٹوکن سسٹم نہیں تھالیکن اب پاکستانی فوج نے اسے اپنے کنٹرول میں لیا ہے اور اب اس کے افسران براہ راست تجارت کررہے ہیں۔

ذرائع بتاتے ہیں ٹوکن سسٹم محض چھوٹے کاروباروالوں کیلئے ہے جبکہ بااثر شخصیات کی گاڑیوں پر کوئی ٹوکن سسٹم لاگو نہیں ہے اور وہ بغیر ٹوکن سے تجارت کرتے ہیں۔

کہا جارہا ہے بغیر ٹوکن سسٹم کے گاڑیوں میں فوجی افسران کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment