پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر جبری طور پرلاپتہ کردیا۔
جسکی شناخت عامر ولد محمد اکبر سکنہ آواران تیرتیج کے نام سے ہوئی ہے۔
واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کے عبداللہ عباس نے کہا کہ مذکورہ نوجوان کو 23 نومبر کو حب چوکی سے پی ایس او گیس اسٹیشن سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔
عبداللہ عباس کے مطابق مذکورہ نوجوان تیرتیج آواران کا رہائش ہے جو فوجی آپریشنوں سے تنگ آکر آواران سے ہجرت کرکے اس وقت خاندان سمیت حب چوکی میں رہائش پزیر ہیں۔
لاپتہ عامر بلوچ کے بہن بی بی نازیہ اکبر نے اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئی کہتی ہے کہ اسکے بھائی عامر سکنہ تیرتیج آواران ولد محمد اکبر کو 23 نومبر کو گڈانی موڑ تحصیل حب میں واقع پاکستان اسٹیٹ آئل پٹرول پمپ سے رات 1 بجے پاکستانی خفیہ اداروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا جہاں پر عامر 2 سال سے کام کررہا تھا۔
لہزا ان کے بھائی کو بازیاب کیا جائے ۔