گوادر دھرنا 9 ویں دن میں داخل ہوگئی ہے لیکن ابھی تک کوئی مطالبہ منظور نہیں کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر احسان شاہ، ظہور بلیدی اور مشیر پی ایچ ای لالا رشید گوادر پہنچ گئے اورمذاکرات کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وفد مذاکرات کیلئے دھرنے میں پہنچ گئی ہے ۔
بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی ظہور بلیدی اور وزیر صحت احسان شاہ، مشیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ لالہ رشید دشتی گوادر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد دھرنے میں مذاکرات کیلئے پہنچ گئے ہیں تاکہ دھرنے کو ختم کیا جاسکے۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادربلوچستان وزراء کو گوادر میں جاری دھرنے سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا جس کے بعد وہ مذکارت کیلئے دھرنے میں پہنچ گئے ۔
وزرا کی اعلیٰ سطحی جلاس میں گوادر میں جاری دھرنا اور دیگر مختلف امور پر تبادلہ خیال گیا۔
مذاکراتی وفد دھرنے میں پہنچ گئی ہے اور دھرنے کے خاتمے کیلئے مذاکرت جاری ہیں۔
واضع رہے کہ سی پیک کی حب گوادر میں مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں پورٹ روڈ پر دھرنا 9ویں روز سے جاری ہے۔اور دھرنے کے شرکا کے مطالبات میں جبری گمشدگیوں کا خاتمہ،بحر بلوچ میں غیر قانونی ٹرالنگ کاخاتمہ،شہر میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ اورپانی و بجلی کی فراہمی سمیت دیگر بنادی حقوق شامل ہیں۔