مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے ٹرائل سے متعلق سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی مبینہ متنازع آڈیو کلپ کی جانچ کرنے والی امریکی فرم گیریٹ ڈسکوری نے کہا ہے کہ اس نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ کے لیے ’کام کیا‘ لیکن تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔
آڈیو کلپ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس کو سنا جاسکتا ہے کہ ’مجھے اس کے بارے میں تھوڑا دوٹوک ہونے دو، بدقسمتی سے یہاں یہ ادارے ہیں جو حکم دیتے ہیں، اس کیس میں ہمیں میاں صاحب (نواز شریف) کو سزا دینی پڑے گی، (مجھے) کہا گیا ہے کہ ہمیں عمران صاحب (عمران خان) کو (اقتدار) میں لانا ہے‘۔
فیکٹ فوکس نے اپنی سائٹ پر ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ’گریٹ ڈِسکوری کے پاس ماہرین کی ایک ٹیم ہے اور ان کے پاس ثبوتوں کا تجزیہ کرنے اور انہیں بطور ثبوت امریکی عدالتوں کے سامنے گواہی دینے کا طویل تجربہ ہے‘۔
فیکٹ فوکس کے مطابق فرم کی تجزیاتی رپورٹ آڈیو کلپ کی تصدیق کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ ’اس آڈیو میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی ہے‘۔
گیریٹ ڈسکوری کے نمائندے کے ساتھ بات چیت میں، ڈان نیوز نے نشاندہی کی کہ فرم کا ذکر سابق پاکستانی چیف جسٹس سے متعلق ایک خبر میں موجود ہے۔
’فیک فوکس نامی ایک ویب سائٹ نے یہ اسٹوری کی، سابق چیف جسٹس اور کسی اور کے درمیان ہونے والی گفتگو ٹیپ پر مبنی ہے، ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ آپ کی فرم نے ٹیپ پر فرانزک کیا اور کہا گیا کہ اس میں ترمیم یا چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے اس لیے ہمیں آپ کے مؤقف کی ضرورت ہے‘۔
نمائندے نے جواب دیا کہ ’ہم نے فیکٹ فوکس کے لیے کام کیا ہے، معاہدے کی رو سے ہمارے پاس رازداری کی ایک شق ہے جو ہمیں کام یا کام کے دائرہ کار کے بارے میں بات کرنے سے روکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تفصیلات جاری کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے جب تک کہ ہمارا کلائنٹ ایک معاہدے پر دستخط کرتا ہے جو ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے‘۔
کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم نے جو کام کیا ہے اس کے بارے میں کسی بھی استفسار کے لیے براہ کرم فیکٹ فوکس سے رابطہ کریں اور ان کے ساتھ معلومات کے اجرا پر بات کریں، ہم اس وقت تک اس مسئلے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے‘۔
جب ڈان نے فیکٹ فوکس سے پوچھا کہ کیا گیرٹ ڈسکوری نے بھی اس بات کا تعین کیا کہ یہ ’دو افراد کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ایک حقیقی آڈیو کلپ ہے‘، تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے گفتگو کی صداقت کے بارے میں کبھی کوئی دعویٰ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’فارنزک ٹیپ کے بارے میں تھا، نہ کہ دو افراد کون تھے، پہلی آواز ثاقب نثار کی ہے، ہم دوسرے شخص کو نہیں جانتے‘۔