ہوشاپ واقعہ کے معطل انتظامی افسران کوسپریم کورٹ کے حکم پر بحال کردیاگیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ضلع کیچ کے انتظامی افسران جنھیں بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر معطل کیا تھا کو بحال کردیاہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان، اسسٹنٹ کمشنر تربت عقیل کریم اور نائب تحصیلدار ہوشاپ رسول جان کو بحال کرکے اپنے مناصب پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

10 اکتوبر 2021 کو ضلع کیچ کی تحصیل ہوشاپ میں ایف سی نے مارٹر گولہ فائر کیا جس کی زد میں آکر محراب خان کے دو نواسے شراتون بنت واحد اور اللہ بخش ولد واحد جو کہ اپنے گھر کے عقب میں کھیل رہے تھے شہید ہوئے جبکہ ایک اور بچہ مسکان ولد وزیر شدید زخمی ہوا۔

اس واقعے کے خلاف لواحقین نے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں شہید فدا چار راہ پر دو دن تک دھرنا دیا سنوائی نہ ہونے پر لواحقین لاشوں کے ساتھ شال گئے جہاں لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا گیا۔

چیف جسٹس آف بلوچستان نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید پر مشتمل ایک بنچ نے ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ لواحقین جس کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنا چاہئیں ان ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ شہید ہونے والے بچوں کو حکومتی سطح پر شہید قرار دیا جائے اور لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی میں زیر علاج بچے کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان ادا کرئے اور متاثرہ لواحقین کو مکمل سیکورٹی کے ساتھ ان کے علاقے میں پہنچا کر تحفظ فراہم کیا جائے۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے اس فیصلے میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر ضلع کیچ کے تین انتظامی افسران ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان، اسسٹنٹ کمشنر کیچ عقیل کریم اور نائب تحصیلدار ہوشاپ رسول جان کو معطل کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

ڈی سی کیچ نے لواحقین کے کہنے پر ایف سی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا تھا اور غلط بیانی کی تھی جبکہ نائب تحصیلدار ہوشاپ رسول جان نے جو ابتدائی رپورٹ ڈی سی کیچ کو ارسال کیا تھا اس میں یہ بیان دیا گیا تھا کہ وہ جائے وقوع پر گئے جہاں لواحقین نے بیان دیا کہ بچوں کو گولہ مار کر شہید کیا گیا بعد ازاں ڈی سی کیچ نے متضاد بیان دیا کہ جائے وقوع سے ہینڈ گرنیڈ کے کلچ اور پن برآمد ہوئے تھے۔

ڈپٹی کمشنر کیچ اور بلوچستان کے حکام نے لواحقین کو ایف سی کے خلاف ایف آئی آر کرنے کی یہ شرط رکھی تھی کہ اگر متاثرہ بچوں کی پوسٹ مارٹم سے مارٹر گولہ لگنے کی تصدیق نہیں ہوئی تو لواحقین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ہسپتال میں انتظامیہ نے بچوں کے پوسٹ مارٹم کرنے سے گریز کیا لیکن بعد ازاں ایف آئی آر کو پوسٹ مارٹم سے مشروط کردیاجبکہ زخمی بچے کے میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹروں نے تصدیق کی تھی بچے کے زخم میں دھاتی عناصر ملے ہیں۔

لواحقین کے مطابق سانحہ کے بعد ایف سی اہلکاروں نے فوری طور پر شواہد مٹا دیتے تھے اور گولہ کی زد میں آکر جو درخت متاثر ہوا تھا اسے بھی ایف سی اہلکاروں نے جلا دیا۔

Share This Article
Leave a Comment