بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ نے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دو لاپتا طلبہ کی بازیابی کی یقین دہانی پر چار دن سے جاری دھرنا تین دن کیلئے مؤخر کر دیا ہے۔
سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ چند دن قبل لاپتا ہو گئے تھے جس کے بعد 7 نومبر سے طلبہ نے احتجاج اور دھرنا شروع کیا تھا۔
احتجاج کے دو دن بعد 9 نومبر کو انتظامیہ سے مذاکرات ناکام ہونے کے نتیجے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مختلف دھڑوں نے یونیورسٹی کے دروازے بند کردیے تھے اور اعلان کیا تھا کہ کوئی بھی سمسٹر امتحانات میں حصہ نہیں لے گا اور دونوں طلبہ کی بازیابی تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سینٹرل سیکریٹری جنرل بلوچ قادر نے کہاکہ جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کے نئے دور میں حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام لاپتا طلبہ مل جائیں گے اس لیے احتجاج کو منگل تک مؤخر کردیا گیا ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے عہدیدار کے مطابق انتظامیہ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی 15 نومبر سے دوبارہ کھل جائے گی اور تعلیمی سرگرمیاں، انتظامی امور اور امتحانات وغیرہ بحال ہو جائیں گے۔
بلوچ قادر نے کہا کہ یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک کے سامنے علامتی مظاہرہ کیا گیا جس میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ اگر لاپتا طلبہ منگل تک بازیاب نہ کرائے گئے تو احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا اور یونیورسٹی کو بند کردیا جائے گا۔
حکومت نے طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے 11 نومبر کو کمیٹی قائم کی ہے اور اپنی سفارشات جمع کردی ہیں۔
کمیٹی کے اراکین میں سے ایک اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زرے نے تصدیق کی کہ مشروط معاہدہ طے پا گیا ہے اور معاملہ بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔