گوادر: اسکولوں کی مفت کتابیں طلبا میں تقسیم کے بجائے پھینک دی گئیں

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گوادر: اسکولوں کی مفت کتابیں طلبا میں تقسیم کے بجائے پھینک دی گئیں
گوادر میں گورنمنٹ ہائی اسکول گوادر جدید کی درسی کتابیں ساحل سمندر پر پھینک دیئے گئے۔

اسکول نصاب کی نئی کتابوں کی بنڈلز ساحل سمندر میں پھینکنے ویڈیو گذشتہ روز سوشل میڈیا میں سامنے آگئی جو کسی شخص نے بنا ئی تھی۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بغیر استعمال شدہ نئی کتابوں کی بہت ساری بنڈلیں ساحل سمندر میں لا کر پھینک دی گئی ہیں جو بوریوں میں ٹھونسی گئی تھیں لیکن وہاں گزرنے والے مسافروں یا پھر سمندر کی لہروں کی وجہ سے یہ کتابیں بوریوں سے نکل کر پوری ساحل سمندر پھر پھیل چکی ہیں۔

اس ویڈیو میں ایک بوری پر کیمرہ فوکس کیا جاتا ہے تو اس بوری پر ”گوادر جدید” کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔

https://www.facebook.com/pasninews/videos/646034613098316 ویڈیو لنک :

یہ کتابیں محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کے طلبہ کو مفت دینے کیلئے اسکول بھجوائی گئی تھیں۔

علاقہ مکینوں نے کتابیں ساحل پر پڑی دیکھ کر سمندر برد ہونے سے بچ جانے والی کتابوں کو محفوظ کرکے واپس اسکول منتقل کردیا۔

ڈائریکٹر تعلیم بلوچستان عبدالواحد شاکر نے بتایا کہ محکمہ تعلیم نے یہ کتابیں بچوں کو مفت تقسیم کرنے کیلئے دی تھیں۔

محکمہ تعلیم نے ایکشن لیتے ہوئے گورنمنٹ ہائی اسکول گوادر جدید کے قائم مقام ہیڈ ماسٹر محمد طارق علی کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ بلوچستان بھر کے کئی اسکولوں میں مفت کی کتابیں دستیاب نہیں ہیں جہاں پڑھنے والے طلبا کے والدین قوت خرید کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے ان کے بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment