بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ بلوچوں نے ہتھیار پھینکنے کے لیے نہیں اٹھائے ہیں۔یہ ہتھیار نظریہ اور علم کے پابند ہیں۔
انھوں نے یہ بیان حال ہی میں بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو کے بیان کے ردعمل میں دیا، جس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر مسلح بلوچ ہتھیار ڈال دیں تو ریاست ان کو معاف کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا کہنا تھا دشمن ملک معافی کی بات کر رہا ہے معافی وہ مانگیں جو جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہے ہیں۔چھوٹے بچوں اور خواتین سے لے کر 80 سالہ بزرگوں کو قتل کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا آزادی کے لیے بلوچ قوم کا جذبہ، علم اور آگاہی واضح ہیں۔آج اس جدوجہد میں تمام بلوچ شامل ہیں۔جسے روکنے کے لیے بچوں سے لے یونیورسٹی کے نوجوان تک ایسے غائب کیے جار ہے ہیں کہ ہٹلر کے مظالم بھی اس کے آگے شرما جائیں۔