گوادر کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کیئے گئے تو سی پیک کو جام کردینگے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پسنی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات کیلئے انتظامیہ کی جانب سے ان سے رابطہ کیا جارہاہے اور ہم نے واضح کردیا ہے کہ اگر چار دن کے اندر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو 15 نومبر کو گوادر میں تاریخی دھرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا 19 اگست سے لیکر آج تک غیر قانونی ٹرالنگ، منشیات اور غیر ضروری چیک پوسٹ کے خاتمے کے خلاف ہم نے جو تحریک شروع کی تھی وہ ابھی بھی جاری ہے اور اس میں ہزاروں لوگ شامل ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اور ڈی جی فشریز کا حالیہ دورہ فقط عوام کو ہماری تحریک سے منحرف کرنے کیلئے ہے لیکن ضلع گوادر کے عوام اور ماہی گیر اب کسی کی بھی باتوں میں نہیں آئینگے اور جب تک بحرہ بلوچ میں ایک بھی غیر قانونی ٹرالر موجودہے ہماری تحریک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا ضلع انتظامیہ افسر شاہی بنی ہوئی ہے حالانکہ وہ عوام کے خادم ہیں لیکن وہ حاکم بنے ہوئے ہیں اور ہم جو دھرنا دے رہے ہیں وہ دن ماہی گیروں اور مزدوروں کے فتح کا دن ہوگا۔
انہوں نے کہاگوادر پورٹ اگر گوادر کے عوام کو روزگار نہیں دے سکتی تو اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے اور ہم ایسے پورٹ کو چلنے بھی نہیں دینگے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا 15نومبر کے دھرنے کو تاریخی بنانے کے لیئے وہ بلوچستان بھر کے غیور عوام کو دعوت دینے نکلا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مکران کوسٹل ہائی وے پر سینکڑوں چیک پوسٹ ہیں لیکن اس کے باوجود منشیات سرعام فروخت ہورہی ہے انہوں نے کہا انتظامیہ کے پاس صرف چار دن ہے وہ خود فیصلہ کرے۔