تیرہ نومبر یوم شہدائے بلوچ کی مناسبت سے بی این ایم کی طرف سے جاری کردہ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ13 نومبر بلوچ قومی تاریخ میں ایک نہایت ہی اہمیت کا حامل دن ہے۔ بلوچ قوم ہر سال اس دن کو فخر سے مناتی ہے کیونکہ یہ دن قربانی اور جدوجہد کی علامت ہے۔ اس دن بلوچ حاکم خان محراب خان نے انگریزی سپاہ کے سامنے سرتسلیم خم کے بجائے قربانی کے عظیم فلسفے پرعمل کیا۔ وہ بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ ایک قومی ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ وہ کئی دنوں تک انگریز کی طاقتور فوج کا مقابلہ کرتے رہے۔ انگریز فوج کے افسروں سمیت سو سے زائد سپاہی مارے گئے اور بلوچ حاکم سمیت بلوچ فوج کے چار سو سے زائد سرمچار شہید ہوئے۔ انگریزوں کے دھمکی اور حملہ سے پہلے خان محراب خان نے سرداروں سے مدد کی اپیل کی تھی لیکن سرداروں نے اس وقت بھی طاقت کے سامنے سر جھکا کر بدنامی کا داغ ماتھے پرسجانے میں عافیت جانی مگر اس سے بلوچ قومی تحریک اور مزاحمت میں اس وقت نہ کوئی کمی اور کمزوری آئی اور نہ آج سرداروں کے پاکستانی ہونے سے بلوچ قوم کی مزاحمت کمزور ہے۔
13 نومبر ہمارے لیے فخر کی علامت ہے۔ جب برطانوی سامراج مختلف ممالک پر پنجے گاڑھے جارہا تھا، برطانوی عسکری طاقت کا پوری دنیا میں طوطی بولتا تھا، اس کی فوج جدید ہتھیاروں سے لیس تھی، مگر خان محراب خان اور اس کے سپاہ کی سرزمین سے عشق اور جذبہ قربانی سے شہادت نے انگریزی فوج کو یہ باور کرایا کہ طاقت اور ظلم کے خلاف مزاحمت بلوچ کی فطرت کا حصہ ہے۔ فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتی اور مزاحمت کو کوئی طاقت بلوچ سے نہیں چھین سکتی۔ اس مزاحمتی دن کو بلوچ قوم یوم شہداء بلوچ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
شہداء کسی بھی قوم کے حقیقی ہیرو ہوتے ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنا زندہ اقوام کا شیوہ ہے۔ شہدائے بلوچستان نے بلوچ قوم کا مسئلہ فرش سے اٹھا کر اسے اوج ثریا پرپہنچایا۔ شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرکے ان کے فکر و نظریات کی ترویج کرنا ہمارا قومی فرض ہیاور شہدا کے نقش قدم پر چل کر قومی آزادی کی جدوجہد کو تیز کرنا ہمارے قومی ذمہ داری۔۔
بلوچ قومی تحریک کی ضروریات، عصری تقاضے، مشکلات اور ریاست پاکستان کا ظلم و جبر اور نئی کاؤنٹر پالیسی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم انفرادیت پسندی اور خوف کے ماحول سے نکل کر بلوچ قومی تحریک میں عملی شمولیت اختیار کریں۔ بلوچ قومی سیاست میں اپنی بساط کے مطابق جدوجہد کریں۔ ہماری خاموشی، لاتعلقی یا بیگانگی ہمیں اجتماعی موت مار دے گی۔ ”خاموشی موت کا نام ہے“۔ دنیا میں جس قوم نے ظلم و جبر کے خلاف خاموشی اختیار کی ان کا انجام عبرتناک ہوا۔
محراب خان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام شہدا ہمارے قومی ہیرو ہیں جنہوں نے ظلم و جبر کے خلاف ہر طرح کی تکالیف برداشت کیں، زندانوں میں تکالیف سہے، مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بر آمد ہوئیلیکن قومی تحریک سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے بلکہ تمام عیش و عشرت اور مراعات کی زندگی کو ٹھکرا کر قربانی کے فلسفے پر گامزن رہے اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔
یہ تجدید عہد کا دن ہے۔ آئیں عہد کریں کہ ہر طرح کی مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کریں گے اور منزل کے حصول اور قومی تحریک کی کامیابی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔