ظلمت کدہ | ڈاکٹر جلال بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
13 Min Read

ایک ایسا خطہ جس کی حکمرانی کی تاریخ صدیوں پہ مشتمل ہو، ایک ایسا خطہ جس کا ثقاتی ورثہ گیارہ ہزارسال قدیم ہے، ایک ایسا خطہ جس کی کوکھ سے نئے تہذیبوں کا جنم ہوا، ایک ایسا خطہ جس کی کوکھ سے جنم لینے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق چار کروڑ ہے جن کی ایک کثیر تعداد مختلف ممالک میں بھی آباد ہیں اور ایسی سرزمین جو اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی دنیا کے نقشے پہ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنا وجود رکھتا تھا۔آزاد اور خود مختار مملکت ہونے کے باجود اقوام عالم کی پاسبانی کرنے والے ادارے کی موجودگی میں اس پہ پاکستان جیسے نومولود اور غیر فطری ریاست نے جبری طور پہ قبضہ کیا۔ جس کے رد عمل میں بلوچ تحریک آزادی شروع ہوگئی جو ہنوز جاری ہے۔ بلوچوں کی آزادی کی جدوجہد کو ختم کرنے کے لیے قابض ریاست نے پورے خطہ میں ظلم و بربریت برپا کیا ہوا جس میں ہزاروں بلوچ داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں، ہزاروں عقوبت خانوں میں مقید ہیں اور لاکھوں افراد کو ان کے آبائی علاقوں سے جبری طور پر بے دخل کیا گیا ہے اور جو وہاں مقیم ہیں انہیں آئے روز قہرمانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ریاستی میڈیا میں اندھیر نگری چھائی ہوئی ہے اسی لیے ایسے واقعات جن میں مظلوم و محکوم ظلمِ یزیدی کا شکار ہوں ہمیں سوشل میڈیا کی توسط سے خبر ملتی ہے۔ قابض کی بربریت گزشتہ چوہتر74) (برسوں سے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں جن کا تذکرہ ہم مین سٹریم میڈیا میں دیکھ، سن اور پڑھ نہیں سکتے۔

ظلم و جبر کو بیان کرنے کے لیے ان چند سطور میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے دلخراش واقعات کو قلمبند کررہا ہوں جن کی بابت سوشل میڈیا کی توسط سے جانکاری حاصل ہوئی جن میں کیچ سے تعلق رکھنے والی پینتالیس سالہ تاج بی بی جو جنگل سے لکڑیاں کاٹنے چلی تھی پر 21اکتوبر کو قابض ریاستی فورسزنے انہیں تیرِ آتش کا نشانہ بنایا جس سے وہ موقع پہ شہید ہوگئی۔قابض عسکری ادارہ فرنٹیئر کور(ایف سی) کے اہلکاروں کے ہاتھوں مقتول کی شہادت ان کے بھائی نے دی۔ابھی اس واقعہ کو دوہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ 2اکتوبر2021ء کو بلیدہ میں بلوچ طلباتنظیم (بی ایس او) کے چیئرمین ظریف رند کے گھر پر نام نہاد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے دھاوا بول کے دس سالہ رامز جان کو شہید اور ایک آٹھ سالہ بچہ ریحان جان زخمی ہوجاتاہے، واقعات کے تسلسل پہ ذرا غور کیجیے ایک ہفتے بعد جب بلوچ قوم بلوچستان میں تاج بی بی اور رامز بلوچ کی شہادت کے لیے سراپا احتجاج تھے تو کیچ کا علاقہ ہوشاپ میں چند بچے جو باہر کھیل رہے ہوتے ہیں قابض ریاست کے عسکری اداروں کا نشانہ بنتے ہیں اس بار عام بندوقوں کی بجائے مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ لاشیں بھسم ہوجائیں اس واقعہ میں دوبچے شرہاتون اور اللہ بخش جن کی عمریں غالباً سات آٹھ سال تھے شہید ہوتے ہیں جبکہ ایک بچی مسکان شدید زخمی۔ ابھی تو ماں بہنوں نے ہوشاپ کے شہیدوں کو کندھا بھی نہیں دیا تھا کہ ضلع واشک کے علاقے ٹوبہ میں ریاست نے ایک اور قہر برپا کیا اور دو معصوم بچوں دس سالہ بچی صنم اور اس کے چھ سالہ بھائی گزین کو جبری طور پر لاپتہ کیا۔

دوسری جانب بلوچ فرزندوں بالخصوص طالبعلموں اور سیاسی کارکنان کے لاپتہ کرنے کا سلسلہ گزشتہ دو عشروں سے جاری ہے جس میں آئے روز شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔اس ضمن میں 2009ء میں قابض کے خفیہ اداروں نے مارو اور پھینک دو والی پالیسی اپنائی جس کی زد میں پہلی مرتبہ بلوچ قومی رہنما شہید غلام بلوچ اور اس کے ساتھی آئیں، اب بھی پالیسی وہی ہے لیکن اس بار رنگ کچھ مختلف ہے جہاں ریاست نے ایک اور ادرہ کرمینل ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے نام سے قائم کیا ہے اور جبری طور پر لاپتہ کرنے والے افرادشہیدکو کرنے کے بعد انہیں مقابلے میں مارے جانے کا ڈرامہ رچایاتاہے۔ ان کے اس ڈرامے پہ غور کیجیے کہ اس قسم کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان میں ہم قدرِ مشترک دیکھتے ہیں جہاں ان کی داڑھی بڑھی ہوئی ہے، سرمنڈا ہوا جو عقوبت خانوں میں ان کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے ایک اور بات غور طلب ہے۔ قابض ان واقعات کو مقابلے کا نام دیتا ہے اور بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے جبکہ ان مقابلوں میں کوئی عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی بھی نہیں ہوتا اور مارے جانے والے تمام افراد کا سرنشانہ بنتا ہے ایسا لگتا ہے کہ قابض ریاست کے اہلکار ہولی وڈ کے کسی ویسٹرن فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں یا کلائنٹ ایسٹ وڈ، عمر شریف، یول برائنر جیسے کرداروں کو حقیقت سمجھ کر خود کو انہی کے سانچے میں ڈھال چکے ہیں جنہیں ٹھیک حدف پہ گولی چلاتے دکھایا جاتا ہے اور جب قابض فورسز کا کوئی اہلکار زخمی بھی نہیں ہوتا تو ایسا گمان کیا جاتا ہے کہ وہ سلطان راہی کا ادا کررہے ہیں جو مخالف سمت سے آنے والی گولیوں کو اپنے گنڈا سا کی مدد سے پرے کرتا ہے۔ویسے تو یہ حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہے کہ اس ریاست کا آرمی میدان جنگ میں قدم لرزاں ہے تو پولیس میں اتنی طاقت کہاں۔

ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب ہونے والے بعض افراد اپنا ذہنی توزان بھی مکمل طور پر کھوچکے ہیں۔ یہ ظلم و بربریت جس کی لپیٹ میں آج پورا بلوچستان آچکا ہے اور ظلم و بربریت کی ایسی کوئی شکل باقی نہیں رہی جو ہم نے کتابوں میں پڑھا اور قصے کہانیوں میں نہ سنا ہوگا۔ وہ چاہے ہلاکوکا بغداد میں داخلہ جس نے اپنے ظلم و ستم سے دجلہ اور فرات کو لہورنگ میں تبدیل کیا۔ یہی تسلسل ہم پندرہوی صدی کے آخر میں قائم ہونے والی سپین کے احتساب کے ادارے میں دیکھتے ہیں جہاں مسلمانوں اور یہودیوں کو آہنی شکنجوں میں کسا جاتا تھا جس سے بسا اوقات ان کے جسم کے اعضا ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے تھے اور جو وہاں سے بچ جاتا تو وہ اپنا ماضی بھول چکا ہوتا۔اسی طرح جب فرڈی نینڈ کے پیشواؤں نے نئی دنیا(امریکہ) میں قدم رکھا تو ریڈ انڈینز پہ وہاں کی زمین تنگ کردی گئی اب اگر وہ جاتے بھی تو اپنی ہزاروں سالہ جنم بھومی چھوڑ کر کہاں جاتے لہذا انہوں نے وہیں مرنے کا فیصلہ کیا اور ایک مختصر مدت میں بھاری اکثریت صلیبی وحشیوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوئی، یہی کہانی یورپیوں نے آسٹریلیااور اپنے دیگر نوآبادیات میں اپنائی۔ جب ہم ہندوستان کی جانب آتے ہیں تو سب سے دل خراش واقعہ امرتسر میں قائم جڑیانوالہ باغ میں پیش آجاتا ہے جس میں سینکڑوں سکھوں کو جنرل ڈائر اپنے قہر کا نشانہ بناتا ہے یا بھگت اور اور اس کے ساتھیوں کی لاشوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے نظرِ آتش کرنا۔ ہولوکاسٹ بھی انہی واقعات کا تسلسل ہے جس کی زد میں جرمنی کے یہودی آتے ہیں جہاں ماضی میں ڈھائے گئے مظالم کی تمام حدیں مات کھا گئی۔ ماضی میں دہرائے گئے مظالم کی داستانوں کو یکجا کیا جائے جو مختلف اقوام پہ ڈھائے گئے جہاں مختلف طریقہ کار اپنائے گئے تھے جب ہم ان پہ غور و فکر کریں گے تو ہمیں وہ تمام طریقہ ہائے کار یا کہہ سکتے ہیں کہ ان سے بڑھکر بربریت بلوچستان میں نظرآتی ہے جہاں ظلم کے موجدین کی وہ کونسی پالیسی باقی رہ گئی ہے جو یہاں نہ اپنائی گئی ہو، وہ چاہے اجتماعی قبروں کی شکل میں ہو جو توتک، ڈیرہ بگٹی اور پنجگور میں دریافت ہوچکی ہیں۔پہلے جبری طورپر لاپتہ کرکے شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بناؤ اور لاشوں کو چونے، تیزاب اور مختلف آہنی اوزاروں سے مسخ کرکے کبھی فضا سے گرانا تو کبھی ویرانوں اور جنگلوں میں پھینکنا یا پھر عوام کو مزید خوفزدہ کرنے کے لیے گلی کوچوں میں، تاکہ پھر کوئی سراٹھا کے نہ چلے۔ ان مظالم میں اور ہولوکاسٹ میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟۔ ڈیرہ بگٹی میں عبادت میں مصروف ہندووں پہ آتش و آہن کی برسات جس میں پینسٹھ (65)سے زیادہ مرد عورتیں اور بچے مارے جاتے ہیں۔ آیا یہ کسی جڑیانوالہ باغ کے واقعہ سے کم ہے؟ یا لوگوں کو اس قدر مظالم کا نشانہ بنانا کہ جسمانی طور پہ مفلوج ہونا اپنی جگہ وہ اپنا ذہنی توازن تک کھوبیٹھتے ہیں۔ کیا یہ ایکویزشن (سپین کا ادارہ احتساب) کی شبیہ نہیں؟۔بات ہو بچوں، عورتوں اور ضعیف العمر افراد پہ مظالم کی تو اس ضمن میں قابض پاکستانی دیگر قبضہ گیروں سے سبقت لے گئی ہے جہاں شیرخوار بچوں سے لے کر زندگی کی اسی(80)بہاریں دیکھنے والے افراداس کی بربریت سے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

سات دہائیوں سے ظلم و بربریت کا سامنا کرنے کے باوجود آج بھی بلوچ قوم نہ صرف ان مظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی ہے بلکہ آئے روز کی عوامی شمولیت اور مسلح جہد کاروں کے متحرک کردار نے ریاست پہ شدت کے ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ ہمیں منزل کے حصول سے روکنا ممکن نہیں۔ البتہ اس ضمن میں عالمی اداروں اور خود کو مہذب کہنے والے ممالک کا خاموش کردار نہ صرف بلوچوں کے لیے بلکہ ہر محکوم و مظلوم کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے، اگر اب بھی ان اداروں اور ممالک نے نہ صرف اس خطہ زمین کے باسیوں بلکہ دیگر محکوموں اور مظلوموں کی دادرسی اور طاغوتی قوتوں کی روک تھام کے لیے مثبت کردار ادا نہیں کیا،تواس میں شق کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتا کہ مظلوم و محکوم ان اداروں کے کردار سے مکمل مایوس ہوجائیں۔ اس بات سے بھی ہم انکار نہیں کرسکتے کہ پاکستان مغربی مفادات کے تحفظ کے لیے وجود میں لایا گیاتھا۔ مغرب کا چوکیدار اب نہ صرف اس خطہ بلکہ دنیا عالم کے لیے ناسور بن چکا ہے انڈیا سے لیکر مشرق وسطیٰ حتیٰ کہ مغرب تک میں دہشت گردی کے واقعات کی کڑیاں اسی سے ملتی ہیں۔لہذا اب بھی وقت ہے کہ دنیا عالم حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کردار ادا کریں جس نے ظلمت کدہ بنایا ہے۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment