انڈیا میں ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ایک ویڈیو ٹویٹ میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ‘گڑبڑ پیو گے تو اسی طرح جاؤ گے۔ پیجیے گا تو گڑبڑ تو ہو گا ہی۔ جہاں بھی شراب چل رہی ہے وہاں بھی یہ سب گڑبڑ ہوتی رہتی ہے۔ یہ کریں گے تو کوئی بھی گڑبڑ طریقے سے آپ کو پلا دے گا اور چلا جائے گا۔‘
نتیش کمار نے یہ بات ریاست میں جعلی شراب پینے کی وجہ سے ہونے والی حالیہ اموات کے تناظر میں کہی ہے۔
انڈیا کی مشرقی ریاست بہار میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں جعلی شراب پینے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم صحافیوں اور مقامی شہریوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
ریاست میں ایکسائز کے وزیر سنیل کمار نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ‘مغربی چمپارن میں زہریلی شراب کی وجہ سے 10 اموات ہوئی ہیں جبکہ گوپال گنج میں اموات کی تعداد 11 بتائی جاتی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی یہ ظاہر ہو گا کہ کیا ان اموات کی وجہ نشہ اور شراب ہے۔ واقعے کے حوالے سے پولیس کے ذریعے متعدد جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مقامی پولیس افسر کو بھی معطل کیا گیا ہے۔‘
گوپال گنج میں ہلاکتوں کا سلسلہ دو نومبر جبکہ مغربی چمپارن میں تین نومبر سے شروع ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق دلت برادری سے ہے۔ ان واقعات میں ہلاکت کے علاوہ آنکھوں کی بینائی جانے کی بھی خبریں ہیں۔
اگست 2016 میں بھی گوپال گنج میں زہریلی شراب پینے سے 19 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور چھ لوگ بینائی سے محروم ہوئے تھے۔
ضلع گوپال گنج میں مرنے والوں میں سے ایک شخص کا نام چھوٹے لال تھا۔ وہ اپنے بھائی کے سسرال گئے ہوئے تھے جب وہ دو نومبر کی شام کو واپس گھر پہنچے تو ان کے منہ سے بدبو آ رہی تھی۔ ان کی بہو چندا دیوی کہتی ہیں کہ‘انھوں نے شراب پی رکھی تھی۔ انھوں نے چادر منگوائی اور اوڑھ کر سو گئے۔‘
‘اس کے بعد وہ اٹھے، انھوں نے کھانا مانگا لیکن کھانے سے انکار کر دیا۔‘ دیوی کے مطابق کچھ دیر بعد انھیں تین سے چار بار الٹیاں ہوئیں اور رات بارہ بجے کے بعد وہ چیخنے لگے۔
وہ کہتی ہیں کہ‘ان کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ جب میری بھابھی نے مجھے بلایا تو میں نے انھیں پانی پلایا لیکن ان کے منہ سے جھاگ آنے لگی اور وہ آدھے گھنٹے میں ختم ہو گئے۔‘
جن دیہات میں یہ حادثات ہوئے ہیں وہ دریائے گنڈک کے کنارے ہیں۔ ہر سال یہ سیلاب کی زد میں آتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں آبادی کم ہے۔
دریائے گنڈک کے کنارے ہونے کی وجہ سے یہ جغرافیائی لحاظ سے مشکل علاقہ ہے لیکن شراب کا کاروبار کرنے والوں کے لیے کافی مناسب ہے کیونکہ مشکل رسائی والے علاقوں میں حکام کی کارروائیوں کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں شراب آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔