بحربلوچ کا فرزند”سربلند“ | ڈاکٹر جلال بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

وطن کے عشق نے مجھے جذبہ حریت کی تحریک دی۔ وطن کے اسی مہرووفا نے مجھے قوم کی حالت دیکھنے اور دیکھنے کی اس خواہش نے محسوس کرنے پہ اکسایا۔۔۔ جوں ہی میں نے قوم کی حالت زار دیکھی تو قوم کی بے بسی اور کرب کے اسباب تک پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ جہاں گزشتہ سات دہائیوں سے قوم کے فرزند تہذیب سے ناآشنا دشمن کے قہر کا سامنا کررہے ہیں۔اذیت ِ نمرودی میں قہر کا سامان بھی ایسا کہ وطن پہ داؤ پہ لگ چکا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ قوم و وطن کی بحالی و خوشحالی کے لیے کیا کیا جائے؟ لہذا سوچ بچار کے بعد نظریں پروم کے پہاڑوں پہ اٹک گئی جہاں وطن کے جانثار جہد آزادی کے لیے سروں پہ کفن باندھ کے متحرک کردار ادا کررہے تھے اور ہیں۔ تو کیوں نہ میں بھی اس کارواں کا سپاہی بن کے اپنے لہو سے اپنی سرزمین کو سیراب کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکوں۔

یہیں سے عملی زندگی کی ابتدا ہوئی اور یوں بلندیوں پہ بلندیاں طے کرتا ہوا وہ اپنے نام کی طرح سربلند ہوا، بلندیاں بھی ایسی طے کیں جس میں زندگی کی بیس بہاریں دیکھنے والاقوم کایہ”سربلند“صدیوں کی عمرپالیا۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ صدیوں کی عمرپانے کے لیے صدیاں زندہ رہنا ضروری نہیں بلکہ کچھ ایسا انوکھا کیا جائے جو نہ صرف صدیوں یاد رکھا جائے بلکہ محکوم و مظلوم اقوام اپنے مقاصدکے حصول کے لیے خود کو اسی سانچے میں ڈھالنے کی جستجو کریں۔

کچھ اسی قسم کے خیالات ہونگے سربلند کے جس نے اپنے عمل سے بلند و بالا مینار تعمیر کیا جس پہ ایسی چراغاں کہ اس نور منور میں نابیناوں کے لیے بھی راہوں کا تعین چنداں مشکل نہیں۔

ایسے ہی فرزندوں کی بدولت دھرتی خزاں میں بھی بہار کا عکس پیش کرتاہے، جو جہاں قدم رکھیں آنے والے قافلوں کے لیے ہریالی کا سامان چھوڑ کرجائیں۔ اپنے کردار اور عمل کی وجہ سے دھرتی انہیں ابد تک خود میں ایسے سمائے رکھتا ہے کہ ہر گزرنے والا راہی ”داستانِ حُر“ سن، پڑھ اور محسوس کیے بنا نہ رہ سکے۔

سربلندجان نے جب گوادر میں قدم رکھا ہوگا تو یقین مانیے کہ بحر بلوچ۔۔۔ دشت اورکوہ باتیل سے لیکر اورماڑہ کے پرپیچ پہاڑوں بلکہ دُور قلعہ نما رنگے لیے وطن کی حفاظت قائم چلتن و ماران تک سے بھی سرگوشاں ہوگا کہ یہ ”سربلند“جوہماری حفاظت کے لیے اپنے عمل سے جو کچھ کرنے جارہاہے اس کے سامنے تو میری گہرائی، دھرتی کے پہاڑوں کی بلندیاں، دشت اورچاغی کے میدانوں کی کشادگی بھی حقیر نظر آتے ہیں۔ انہی فرزندوں کی بدولت مہرگڑھ کی ریاست سے لے کر آج کی پیڑی تک میں سالِم ہوں، میں قائم ہوں، میں انہی کا ہوں، میں انہی میں سے ہوں اور میں قوم کے انہی فرزندوں کا ہو کے رہوں گا جنہوں نے میری قدِآب سے زیادہ اپنے لہو سے دھرتی کو سیراب کیا ہے۔ میری حفاظت کے لیے اپنے لہوکو بے مول سمجھنے والے وطن کے جانباز حمل جیندسے لے کرحالیہ دور تک کے سرفروشانِ وطن جس دیدہ دلیری سے میری ڈھال بنے رہے ان کا موازنہ کسی طاقتور قلعے سے بھی ممکن نہیں۔ انہی اور بالخصوص سربلند جیسے فرزندوں کی بدولت میر ی شان بڑھتی جارہی ہے جس میں موت کو ایسے گلے لگانا جس میں جسم ہزاروں ٹکڑوں میں منقسم ہوں، وہ بھی عین شباب کے دنوں میں جس میں ہزاروں خواہشیں تکمیل کے لیے اودھم مچارہے ہوتے ہیں پر وطن کی آزادی کی خواہش ہر خواہش پہ غالب آرہی ہوتی ہے۔ یہی ہستیاں ہوتی ہیں جن پہ تاریخ ایسے فخر کرتی ہے کہ مورخ جب اس دھرتی پہ ورثہ، ثقافت و تہذیب کو ڈھونڈھنے نکل پڑتا ہے تو نہ صرف وہاں کے باسی لیلڑی گاکر سربلند جیسوں پہ نازاں ہوتے ہیں بلکہ وہاں کا ہرمنظر چاہے بلند و بالا پہاڑ ہوں، ندیاں ہوں، دریا و سمندر ہوں یا دشت و بیاباں۔۔۔ہر سُو افتادگان خاک پہ نازاں نظارے، سماعت سے ٹکرانے والے دلرباء گیت جو دل موہ لیں اور روح تک سرایت کرجائیں۔

یہ بیس سالہ معصوم سانقش ونگار والا خوبرو نوجوان جس کا جمیل عکس یقیناًبحربلوچ جیسا ہی تھا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں جس نے سربلند کو دیکھا سمجھ لیجیے کہ اسے بحر بلوچ کی زیارت نصیب ہوئی اور اگر کسی کو سربلند سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے تو وہ باتیل سے بحربلوچ کا نظارہ کرے تو اس کے سامنے سمندر سربلندکے عکس میں دکھائی دے گا۔۔۔وہی دلربائی، وہی مہرو وفا، وہی خوشنما رنگ و صورت، وہی شرین گفتاری، وہی سرباز مزاری اور وہی دیدہ دلیری۔۔۔جس نے ہر دور میں طاغوتی قوتوں کا غرور خاک میں ملاتے نہ صرف دیکھا بلکہ اپنے فرزندوں کامحافظ و مامون بھی بنا رہا۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment