قدوس بزنجو نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلو چستان عوامی پارٹی (باپ)کے رہنماقدوس بزنجو نے بلوچستان کے 17ویں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

جمعہ کو گو نر ہاؤس کوئٹہ میں نو منتخب وزیر اعلیٰ بلو چستان قدوس بزنجو کی حلف بر داری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو سے انکے عہدے کا حلف لیا۔

تقریب میں گورنر پنجاب چوہدی محمد سرور،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی مختلف محکموں کی سیکر ٹریز بھی موجود تھے۔

تقریب میں عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی جس کی وجہ سے تقریب گو نر ہاؤس کے لان میں منعقد کی گئی۔

نو منتخب کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے پندرہ دن میں حکومتی پالیسی کو ایوان اور عوام کے سامنے لا نے،کوئٹہ میں فوری طور پر صفائی مہم شروع کرنے،دسمبر تک تمام خالی آسامیاں پر کرنے، صحت او ر تعلیم کے انڈومنٹ فنڈز میں دو دوارب کے اضافے اوربلوچستان کے قیدیوں کی سزا میں دوماہ کی تخفیف کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تقدیر بدلنے کیلئے اسلام آباد کا رخ کریں گے اور نئے منصوبے لائیں گے۔

وفاقی حکومت،عوام اور بیوروکریسی کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں کرسکتابیوروکریسی انہیں آٹھ آٹھ گھنٹوں کی میٹنگوں میں نہ الجھائے صرف کام کرے، وزیر اعلی کی کرسی بہت بے وفا ہے یہ کسی کی نہیں ہوتی۔یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ عوام کی اتنی خدمت کر سکوں جتنا ان کا حق ہے صوبے کے بارڈر کے مسائل پر اسٹیک ہولڈرز سے بات کروں گا وزیر اعلی نے صوبے کے تمام اضلاع میں کھلی کچہری لگانے اور شکایات سیل کے اجرا کا اعلان کیا اور آئی جی پولیس کو ہدایت دی کہ ان کیلئے شہر کی شاہراہیں بند نہ کی جائیں۔

قدوس بزنجو نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ ہم سب کو ایک ساتھ لیکر چلیں اور اسی تسلسل سے تحریک چلائی ہے امتحان میں نتائج کے بعد مبارکباد د ی جاتی ہے آج میں مبارکباد نہیں لوں گا جس دن کامیاب ہوں گا اور اپنی ذمہ داری پوری کروں گا اس وقت مبارکباد قبول کروں گا۔

قدوس بزنجو نے کہاکہ کوئی اس کرسی پر اپنی بدنامی کیلئے نہیں بیٹھتا جو اچھا کام کرتاہے لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں اور جواچھا کام نہیں کرتا لوگ ناراض ہوتے ہیں،انہوں نے کہاکہ لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ماضی میں کچھ نہیں ہوا ہے لیکن اب ہم کہتے ہیں اگر ہمارے ساتھ ساتھیوں،بیوروکریسی اور عوام کاتعاون نہیں رہا تو ہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ رہے انہوں نے کام کیا آج سے اسمبلی میں 65کے 65ارکان اپنے حلقوں اور وزارتوں میں وزیراعلیٰ ہونگے،بلوچستان پاکستان کاآدھاحصہ ہے ہم اس کو مکمل بہتر نہیں کرسکتے اس کیلئے ہمیں دیگر صوبوں اور مرکز کا تعاون حاصل ہونے سے ہی ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،میڈیا کے ذریعے اپنے مسائل کواجاگرکرناہوگا مرکز سے اپیل ہے کہ چھوٹے صوبوں کی ترقی کیلئے اپنا کرداراداکرے۔

این ایف سی ایوارڈ میں ہمیں یہاں کے مشکلات ومسائل کو مدنظررکھتے ہوئے حصہ دیاجائے تاکہ بلوچستان کو دیگر حصوں کے برابر لایاجائے 200ارب کا ترقیاتی بجٹ ہے لیکن مرکز کے تعاون کے بغیر ہم اس کو مکمل نہیں کرسکتے،ہمیں ایک دوسرے کو مورود الزام ٹھہرانے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہیے تحریک میں جن دوستوں،ساتھیوں اور لوگوں نے ساتھ دیانیت صاف ہوتومنزل نزدیک ہے وزیراعلیٰ نامزد کرنے پر تمام ساتھیوں کا شکر گزار ہوں۔

Share This Article
Leave a Comment