ہوشاپ واقعہ میں شہید ہونے والے بچوں کو نیوکاہان میں شہدائے بلوچستان میں سپردخاک کردیا گیا۔
شہید بچوں کی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں طلباء و طالبات نمایاں تھے۔
نماز جنازہ میں خواتین سمیت دیگر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اور اس موقع پر بلوچی انقلابی ترانہ پڑھ کر میتوں کو سلامی دی گئی۔
لوگوں نے بلوچستان میں فوجی آپریشن، بچوں، خواتین کے قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔
شہید شراتون بنت عبدالواحد اور شہید اللہ بخش ولد عبدالواحد کو 10 اکتوبر 2021 کو ایف سی نے ہوشاپ میں مارٹر گولہ فائر کرکے قتل کیا تھا۔اس حملے میں ایک بچہ مسکان ولد وزیر زخمی ہوا تھا جو کہ تاحال کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہے۔وہاں ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بچے کے زخموں میں دھاتی عناصر پائے گئے ہیں جو مارٹر اور دیگر دھاتی ہتھیاروں میں پائے جاتے ہیں۔ جبکہ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ایف سی نے مارٹر گولہ فائر کیا تھا جس کی زد میں آکر دونوں بچے شہید ہوئے اور ایک درخت کو بھی نقصان پہنچا۔
بچوں کے قتل اور بعد ازاں عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے ایف سی نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر جاکر شواہد مٹائے اور اس درخت کو بھی آگ لگا دیا جو مارٹر لگنے کی وجہ سے جھلس گیا تھا۔ایف سی نے ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان کو درمیان میں لاکر متاثرہ لواحقین کو تربت شہر میں ایک ایکٹر زمین اور بچے کے معاوضے کے طور پر 28 لاکھ روپے دینے کی پیشکش کی جسے لواحقین نے ٹھکراتے ہوئے آٹھ دن تک دھرنا دیا۔دو دن تربت میں شہیدفدا چار راہ پر دھرنے کے بعد لواحقین کوئٹہ آئے جہاں چھ دن تک دھرنا دیا گیا۔
ایف سی نے بچوں کو زبردستی دفنانے کے لیے قبر بھی تیار کروائے تھے لیکن لواحقین نے تمام تر دباؤ کے باوجود احتجاج جاری رکھا۔ لواحقین نے سات مطالبے پیش کیے تھے جن میں ایف سی اہلکاروں پر مقدمہ درج کرنا وہ پہلا مطالبہ تھا جس کی بنیاد پر تربت شہر میں دھرنا دیا گیا تھا لیکن ڈی سی کیچ نے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جبکہ بلوچستان حکومت نے اس مطالبے کو پوسٹ مارٹم سے مشروط کرتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مارٹر گولے کی تصدیق نہ ہوئی تو لواحقین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ڈی سی کیچ نے اپنی طرف سے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا۔
ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے قانونی پٹیشن کی بنیاد عدالت عالیہ نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ لواحقین کے بیان کے مطابق مقدمہ درج کرئے اس حکم پر عملدرآمد کرتے پولیس نے مقدمہ درج کیا۔عدالت نے لواحقین سے بھی کہا تھا کہ وہ میتوں کی تدفین کریں۔عدالت نے ڈسی کیچ حسین جان، اسسٹنٹ کمشنر عقیل کریم اور نائب تحصیلدار ھوشاپ رسول جان کو اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے اور طاقتور کے دباؤ میں آکر اپنے فرائض سے چشم پوشی کا مرتکب قرار دے کر معطل کیا ہے اور متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔
بچوں کی میتوں کو نیو کاہان میں شہدائے بلوچستان میں سپرد خاک کیا گیا جہاں بلوچ تحریک آزادی کے سرخیل رہنماء خیربخش مری کی قبر اور دیگر بلوچ شہدا کی قبریں ہیں۔
شہیدوں کی میتوں کو بلوچ خواتین نے کندھا دے کر قبرستان تک پہنچایا۔بلوچ تاریخ میں سب سے پہلے شخص بلوچ قومی رہنماخیربخش مری تھے جب ان کے جنازے کو ان کی وصیت کے برخلاف کاہان لے جانے کی کوشش کی گئی تو بلوچ خواتین نے ان کے بیٹے چنگیز مری کے سامنے مزاحمت کی اور لاش کو ان کی تحویل سے لے کر نیوکاہان میں شہدائے بلوچستان قبرستان میں دفن کیا اور ان کے جنازے کو کندھا دیا۔