آواران کے گاؤں زیارت ڈن کو سات اکتوبر کے صبح پاکستانی فورسز نے گھیرے میں لے کر گھروں کی تلاشی شروع کردی، تمام علاقہ مکین بشمول (بچوں اورعورتوں) کو گھروں سے باہر نکال کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا ”دی بلوچستان پوسٹ“ کے مطابق پاکستانی فورسز نے زیارت ڈن کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے گھر گھر تلاشی کے دوران نواز علی والد محمد اور وزیر احمد ولد لعل بخش سمیت تین اور لوگوں کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے جو تاحال فورسز کے حراست میں ہیں۔
تاہم سات اکتوبر کے بعد مزید تین مرتبہ فورسز نے علاقے میں آکر رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ شب پاکستانی فورسز نے علاقے میں چھاپہ مار کر میر محمد نامی علاقہ مکین کو گھر کے خواتین و بچوں کے ہمراہ زبردستی فوجی گاڑیوں میں گھر کے سامانوں کے ساتھ قریبی ایف سی کیمپ منتقل کردیا ہے۔