حکومت نے ہوشاپ واقعہ لواحقین کے ایف سی کو ہٹانیکا مطالبہ مسترد کردیا

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے کوئٹہ پریس کلب میں سانحہ پرکوٹگ ہوشاپ کے پس منظر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سانحہ پرکوٹگ کے لواحقین کی آڑ میں بیرونی ملک بیٹھے ہوئے عناصر اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حکومت اور ریاستی اداروں کی ناکامی چاہتے ہیں جو ہم نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا وزیر داخلہ کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کی تحقیقاتی کرئے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں کہ دھرنے کے شرکاء کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوئے کمشنر شال کی سربراہی میں حکومتی مشینری نے مذاکرات کیے ہیں اور ہم نے جائز مطالبات تسلیم کیے ہیں۔

انھوں نے کہا تحقیقات کے لیے کمیٹی کا قیام، متاثرہ خاندان کو تحفظ اور ان کی دوبارہ آباد کاری وہ مطالبات ہیں جنھیں تسلیم کیا گیا ہے لیکن ہم ان حالات میں یہ سیاسی مطالبہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ ایف سی کو بلوچستان سے نکالا جائے۔

ایف سی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے حوالے سے انھوں نے کہا ایف آئی آر قانون کے مطابق درج ہوتی ہے جس کے لیے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا اگر پوسٹ مارٹم میں ایسے شواہد ملے کہ ان پر مارٹر گولے فائر کیے گئے ہیں تو ایف آئی آر ضرور درج کی جائے گی۔

اس معاملے پر ادھر لواحقین نے بھی اپنے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم اس وقت ہونا چاہیے تھا جب لاشیں تربت میں موجود تھیں لیکن اب حکومت کہہ رہی ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم میں یہ ثابت نہ ہوا کہ مارٹر گولہ فائر ہوا ہے تو لواحقین کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور اس کی رپورٹ بنانے والے حکومتی ادارے جو یقینا اپنے مفاد کے مطابق رپورٹ بنائیں گے اور متاثرہ خاندان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے حیات قتل اور سانحہ ڈنک میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹھوس کارروائی کی تھی۔

ضیاء لانگو نے کہا کہ کسی کے ذاتی،سیاسی مفادات کے لیے ہم لواحقین کواستعمال نہیں ہونے دیں گے تاج بی بی کے خاندان کو سیکورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ لواحقین سمیت دیگر افراد کوان کے علاقو ں میں رہائش کے لیے مکمل طورپرسہولت فراہم کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ریاست ماں ہے جس کا کام اپنی عوام کو سہولیات کی فراہمی،جان و مال کاتحفظ اورانصاف فراہم کرنا ہے حکومت دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات اٹھارہی ہے ھوشاپ واقعہ کے شہدا کے لواحقین نے جتنے بھی مطالبات پیش کیے ان کے جائز مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کچھ عناصرسیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے شہدا کے لواحقین کواستعمال کررہے ہیں حکومت لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اوران کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے جو لوگ ریاست کے لیے مشکلات کھڑی کرنا چاہتے ہیں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوگی جہاں بھی زیادتی ہوگی حکومت مظلوم کی مدد کرئے گی۔

انھوں نے کہا کہ حیات بلوچ،تاج بی بی سمیت سانحہ ڈنک میں کچھ لوگوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان میں ریاست ملوث ہے حکومت نے واقعات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جن میں سزائے موت بھی دی گئی جن لوگوں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا انھیں گرفتار کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ریاست مجرم کو مجرم کی نظرسے دیکھتی ہے اور جہاں بھی ظلم ہوگا ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہوشاب کے شہدا کے لواحقین اپنے بچوں کو عزت و احترام کے ساتھ دفن کریں حکومت لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ا

ایک سوال کے جواب میں ضیاء لانگو نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری ہے لیکن اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا جارہا ہم لواحقین کے تمام خدشات دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں لواحقین ان لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں جو انھیں اپنی سیاست،بیرون ملک جانے یابیرون ملک سے بیٹھ کر ان واقعات کوبنیاد بناکر پروپیگنڈہ کررہے ہیں اور لواحقین کا نام استعمال کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم لاشوں کی آڑمیں کسی کو سیاسی یا ذاتی مقاصد حاصل نہیں کرنے دیں گے اگر ھوشاپ واقعہ میں کوئی ادارہ یا اس کااہلکار ملوث ہے تو ہم اس کے خلاف بھی کارروائی کریں گے ڈپٹی کمشنراورضلعی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات بھی ہوں گی جن لوگوں کوسیکورٹی کے خدشات ہیں انھیں سیکورٹی دی جائے گی، ضلعی انتظامیہ ھوشاب واقعہ کے لواحقین کو ان کے علاقوں میں آباد ہونے میں معاونت فراہم کرئے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایف سی کو بلوچستان سے نکالنا ممکن نہیں ہے ہمارے ہمسایہ ملک میں ھندوستان جیسے دشمن ملک بیٹھ کر کارروائیاں کر رہا ہے اور 70ہزار لوگ اس میں جان سے گئے ہیں۔ ایف سی کو عوام کے تحفظ کے لیے بلایا گیا ہے خطے میں موجوددشمنوں کی نگاہیں بلوچستان پر ہیں ہم ایسی صورتحال میں سیکورٹی فورسز کو کیسے نکال لیں یہ فورسز کسی کے کہنے پرنہیں بلکہ حالات کو مد نظررکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں،قبائلی عمائدین کی مشاورت کے بعد ہی تعینات ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہوشاب واقعہ کے لواحقین سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،کمشنر شال مسلسل رابطے میں ہیں اور مسئلہ حل کر رہے ہیں وزیراعلیٰ یا وزیرداخلہ سے لواحقین کی ملاقات مسئلہ نہیں بلکہ ان کے مطالبات کو حل کرنا اصل ترجیح ہے۔جس کے لیے حکومتی مشینری کام کررہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ضیاء لانگو نے کہا کہ شال سمیت بلوچستان میں آئیڈیل حالات اگرچہ نہیں ہیں لیکن گذشتہ بیس سالوں کی نسبت امن وا مان کی صورتحال میں بہتری اور جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔

۔انہوں نے کہاکہ مظاہرین سے مذاکرات نہ ہونے کی بات میں صداقت نہیں جو بھی جائز مطالبات ہیں ان پر عملدرآمد ہورہا ہے ہم تحقیقات کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں جس کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment