ایچ آر سی پی کا ایف سی کو مکران سے نکالنے اورڈی سی کیچ کو معطل کرنیکا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران (بلوچستان) کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے 10 اکتوبر 2021 کو ھوشاب ضلع کیچ میں FCکی طرف سے گولہ باری کر کے دو بچوں کو قتل کرنے اور ایک بچے کو زخمی کرنے کے عمل کی شدید مذمت کی گئی اور قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزائیں دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 10 اکتوبر 2021 کو ھوشاب کے علاقے”پرکوٹگ” میں FCکی بلاوجہ اور بلاجواز گولہ باری کے نتیجے میں شراتون بنت واحد موقع پر ہی جانبحق ہو گئی تھی جبکہ اللہ بخش ولد واحد اور مسکان ولد وزیر زخمی ہو گئے تھے جنھیں علاج معالجے کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت لے جایا گیا اللہ بخش ولد واحد شدید زخمی ہونے کی وجہ سے علاج معالجے کے دوران جانبحق ہو گئے۔

جانبحق ہونے والے دونوں بچے انتہائی کمسن تھے اور زخمی بچہ بھی انتہائی کمسن ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کمسن بچوں نے آخر کون سا جرم کیا تھا جس کے پاداش میں FCنے ان پر غیرقانونی گولہ باری کی اور FCکو اس قسم کی گولہ باریوں کا اختیار کس نے دیا ہے۔

اور ستم بالا ستم یہ ہے کہ تینوں بچوں کے خاندانوں کی طرف سے FIRکٹوانے کے لیے DC کیچ حسین جان سے رجوع کیا گیا تو انھوں نے FIR کٹوانے سے انکار کرتے ہوئے تحقیقات کے بغیر اپنی طرف سے یہ جواب دیا کہ یہ ایک ہینڈ گرینیڈ تھا جو پہلے سے وہاں پڑا ہوا تھا اور جب بچوں نے اس کے ساتھ کھیلنا شروع کیا تو وہ پھٹ گیا جس سے انھیں نقصان پہنچا۔

اسی طرح جب بچوں کے خاندانوں کی طرف سے دونوں لاشوں کے ساتھ فدا شہید چوک تربت میں احتجاجی دھرنا دیا گیا جس کے دوران یکجہتی کے لیے لوگوں کا آنا جانا شروع ہوا اور اسی دوران 12 اکتوبر کی صبح جب DC حسین جان بھی دھرنے پر پہنچے تو انھوں نے وہاں پر بھی FIR درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے گفتگو کے دوران وہاں پر موجود ایک خاتون کی بلاوجہ اور بلاجواز بے عزتی کی جس سے لوگ ان کے خلاف کافی مشتعل ہو گئے اور انھوں نے ان کی معطلی اور تبادلے کے مطالبات بھی کیے۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ تربت سے حق رسی نہ ہونے کی وجہ سے 12 اکتوبر کی رات کو جب متاثرہ خاندان کی طرف سے دونوں لاشوں کو لے کر بہت سارے لوگ گاڑیوں پر حق رسی کی خاطر جب شال جانے لگے تو ھوشاب میں FCنے انھیں جانے سے روکا اور یہ کہہ کر کئی گھنٹے روکے رکھا کہ شال جانے کی بجائے لاشیں یہیں دفنا دیں مگر خاندان کے لوگوں نے اس ناجائز حکم کو ماننے کی بجائے شال کا سفر جاری رکھا اور13اکتوبر کو شال میں سیول سکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے کا سلسلہ شروع کیا اور دھرنے کے دوران حکام بالا سے مجرموں کے خلاف FIRکٹوانے اور ان کی گرفتاری اور سزاؤں کی مطالبات کے ساتھ ساتھ FCکو ضلع کیچ سمیت مکران ڈویژن سے نکالنے اور DCکیچ حسین جان کی معطلی اور ضلع کیچ سمیت مکران ڈویژن سے تبادلے کی پرزور مطالبات کیے گئے اور سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں بلوچوں اور دیگر انسان دوست لوگوں نے مظلوموں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ظالموں کے خلاف ان کے جائز مطالبات کی حامی برلی۔

پریس ریلیز کے آخر میں زور دے کر کہا گیا کہ FCاورDC حسین جان مسلسل ملکی آئین اور بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اصل فرائض منصبی کی ادائیگی میں ناکام رہے ہیں اور غریب عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے رہے ہیں جس کی بنا پر انہیں قطعی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مزید ضلع کیچ اور مکران ڈویژن میں رہ کر غریب عوام پر ظلم زیادتی کا ارتکاب کرتے رہیں لہذا حکام بالا سے اپیل کی جاتی ہے کہ مظلوم خاندانوں کے جائز مطالبات کے عین مطابق FC کو فوری طور پر ضلع کیچ اور مکران ڈویژن سے نکال دیا جائے اور DCکیچ حسین جان کو پہلے معطل کیا جائے اور معطلی کی مدت گزرنے کے بعد ان کا تبادلہ ضلع کیچ اور مکران ڈویژن سے باہر کہیں اور کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور یہاں کے غریب عوام آنئدہ ان کے مزید مظالم سے محفوظ رہ سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment