بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے ہوشاپ واقعے کے تناظر میں کہا ہے کہ غلامی کے ستر سالہ ذلت آمیز تجربے نے بلوچ کے دل میں آزادی کے لیے وہ محبت پیداکی ہے کہ پاکستانی فوج کی وحشت ناک بربریت،دہشت گردی اورجنگی جرائم اان کے حوصلے پست نہیں کرسکا ھوشاپ واقعے پربوڑھے بلوچ کی جرات اوروقت کے فرعون کے سامنے ایستادگی نے ایک پھرثابت کردیا کہ بربریت اپنی ہی کوکھ میں اپنی فنا کا بیج پال رہی ہوتی ہے اور کسی بھی وقت تاریخ کی عدالت میں قبضہ گیریت اوردہشت گردی کے خلاف حق کی لڑائی میں فیصلہ سنائے گی اورباطل قصہ پارینہ بن جائے گا۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا ھوشاپ جیسے واقعات آزادی کے سفرمیں تاریخی موڑ ہیں،یہ ہمارا امتحان لیتے ہیں، یہ دوست ودشمن کی پہچان کراتے ہیں یہ آگے بڑھ کر دشمن کا مقابلہ کرکے امرتاحاصل کرنے،تحریک میں نئی توانائی فراہم کرتے ہیں، ھوشاپ واقعے کے خلاف بلوچ قومی ردعمل نے بلوچ کو بربریت سے زیر کرنے کی جارحانہ پالیسی اور دہشت گردی نے ایک بار پھر پاکستان کے حصے میں رو سیاہی لکھ دیا اور بلوچ سرخرو ہوا۔
انھوں نے کہا بلوچ قومی تحریک عوامی رنگ میں ڈھل چکی ہے دشمن نے جتنے مظالم تحریک کوکچلنے کے لیے برپا کیے ہیں ان کا نتیجہ مزید وسیع اور ہمہ گیر تحریک کی صورت میں سامنے آرہا ہے، اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ پاکستان نوشتہ دیوار پڑھ کر مزید بربریت سے باز آ جائے لیکن یہ بات طے ہے کہ بلوچ اور پاکستان کا رشتہ پانی وتیل کی مثال ہے جسے دنیا کا کوئی کیمیاگر آپس میں نہیں ملا سکتا۔