بھارت: پاکستانی شدت پسند گرفتار، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بھارتی دارالحکومت دہلی کی پولیس نے 12 اکتوبر منگل کے روز پاکستان کے ایک سرگرم شدت پسند کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ بھارتی دارالحکومت میں حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جنہیں شمال مشرقی دہلی کے لکشمی نگر علاقے سے حراست میں لے لیا گیا۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں ایک فرضی نام سے گزشتہ تقریباً دس سے پندرہ برسوں سے مقیم تھے اور ان کے پاس سے ایک ا ے کے 47 رائفل، ایک دستی بم، پستول اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

پولیس نے ان کی شناخت محمد اشرف علی کے طورپر کی ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ بھارت میں علی احمد نوری کے جعلی نام سے رہ رہے تھے اور اسی نام پر بعض دستاویزات بھی حاصل کر لی تھیں۔ پولیس حکام کے مطابق اصل میں ان کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب میں ناروال سے ہے۔ ان کے خلاف متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

دہلی پولیس کی اسپیشل برانچ کے پولیس کمشنر نیرج ٹھاکر نے اس گرفتاری سے متعلق مقامی میڈیا سے بات چیت میں مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا، ”ہمیں ایک خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک دہشت گرد لکشمی نگر میں چھپا ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں شہر میں حملے کی کوئی بڑی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی خفیہ، ”معلومات کی بنیاد پر چھاپے کی کارروائی کی گئی اور علی اشرف کو پیر کی رات کو تقریبا ً10 بجے ان کی رہائش گاہ سے پکڑا گیا۔ ہمیں اس کے گھر سے کئی اسلحے اور گولہ بارود کے ساتھ ہی ایک اے کے 47 رائفل بھی ملی ہے۔ شبہ اس بات کا ہے کہ وہ شہر میں شاید کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔”

دہلی میں محکمہ پولیس کے سربراہ راکیش استھانہ نے اس گرفتاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا، ”فیسٹیول سیزن سے پہلے اسپیشل سیل کی جانب سے یہ ایک اچھی کارروائی ہے۔ ہماری ٹیم کی جانب سے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔”

پولیس کے دعوے کے مطابق علی اشرف کو حراست میں لینے کے بعد جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے اپنے پاس ہتھیار ہونے کی بات تسلیم کی اور پھر ان کے گھر سے یہ ہتھیار برآمد کیے گئے۔ یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ اشرف علی کے پاس بھارتی پاسپورٹ بھی موجود ہے تاہم یہ انہوں نے جعلی طریقے سے حاصل کیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment