افغانستان کے شمال مشرقی صوبے قندوز کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افرادہلاک ہوگئے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی دھماکا صوبہ قندوز کی ایک مسجد میں ہوا جس کے نتیجے میں اہلِ تشیع برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افرادہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ طالبان فورسز کا اسپیشل یونٹ جائے وقوع پر پہنچ گیا ہے اور واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
افغان نشریاتی ادارے خاما پریس کے مطابق افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے صوبہ قندوز میں ہونے والا یہ پہلا دھماکا ہے۔
دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم طالبان کے قبضے کے بعد داعش کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس سے قبل 3 اکتوبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسجد کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔