تربت: انتظامیہ کے مذاکرات ناکام ، مظاہرین کا دھرنا جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ڈپٹی کمشنر کیچ کے ساتھ مذاکرات تیسری بار ناکام ہوگئے۔ شہید رامیز کی فیملی نے میت دفنانے اور دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔

ڈپٹی کمشنر نے اتوار کی رات شہید فدا چوک پر شہید رامیز کی میت کے ساتھ دھرنا پر بیٹھے لواحقین اور آل پارٹیز کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیسری کوشش کی۔

انہوں نے دھرنا پر بیٹھے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واقعہ پر بہت افسوس اور فیملی کے غموں میں برابر شریک ہوں، یہ واقعہ بہت افسوس ناک اور بدقسمتی کا نتیجہ ہے اسے نہیں ہونا چاہیے تھا، میں بطور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر انصاف کی فراہمی کے لیے شروع دن سے کوشش کررہا ہوں، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور دیگر اعلی حکام تک آپ کے مطالبات بھیج دیے ہیں، آپ کے تمام مطالبات قانون اور آئین کے دائرے میں ہیں۔

میں ان تمام مطالبات کے حوالے سے اپنے دائرہ اختیار کی بات کرتاہوں، مجھ سے انصاف رسائی کے لیے جو کچھ ہوگا کروں گا، جس ٹیم نے کوئٹہ سے آکر یہ عمل کیا اس نے مجھے اطلاع دیے بغیر ریڈ کیا جس کا یہ المناک نتیجہ سامنے آیا ہے، واقعہ کی مکمل رپورٹ حقائق کی بنیاد پر حکام تک پہنچائی، بچے کے والد کی رہائی، ملزمان کے خلاف ایف آئی آر اور جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے لیے حکام کو سفارش بھیجی ہے۔

اس دوران فیملی ممبران نے ڈپٹی کمشنر کیچ کے نکات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ رامیز کو اس کے والد نے خود قتل کرایا، ہمارا مطالبہ ہے کہ بچے کی میڈیکل کی جائے اور اسے ہمارے حوالے کریں، اس کے علاوہ بچے کے والد کو فوراً رہا، واقعہ میں ملوث اہلکاروں کی فوری ایف آئی آر اور جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ ہمیں انصاف مل سکے۔

واضع رہے کہ ہفتے اور جمعہ کی درمیانی شب تحصیل بلیدہ میں واقع بی ایس او کے چیئرمین ظریف بلوچ کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارااور فائرنگ کی جس سے ایک کمسن بچہ رامز خلیل جاں بحق ہوگئے جبکہ رایان خلیل اور خواتین زخمی ہوگئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں جانبحق ہونے والے کمسن بچے رامز خلیل کی میت کے ہمراہ لواحقین کا دھرنا کل سے شہید فدا چوک پر جاری ہے، کیچ سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد دھرنے میں شریک ہیں۔

بی ایس او کے چیئرمین ظریف بلوچ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے گھر پر دھاوا بول کر سوتے بچوں اور خواتین پر فائرنگ کی جس سے کمسن بچے کی شہادت اور دیگر خواتین اور بچے زخمی ہوئے تھے، جبکہ خلیل احمد ابھی تک لاپتہ ہے اور ہمیں انکی زندگی کے بارے میں شدید خطرات لاحق ہیں۔

لواحقین نے کہا کہ اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو میت کو لے بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment