تفتان کے رہائشی عبدالحمید حسن زئی نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد تاج محمد کو اغواکاروں کی چنگل سے آزاد کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو تفتان کے چند بااثر عادی مجرمان نے کچھ ماہ قبل اغوا کرکے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے جو رہائی کے لیے تین کروڑ روپے تاوان طلب کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ان کے چچا محمد رضا کو مذکورہ افراد نے تاوان کے لیے اغوا کیا تھا لیکن جب کچھ نہ بن پایا تو دو مہینے بعد ان کو چھوڑ کر میرے والد کو اغوا کیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ والد کے اغوا میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے لیکن ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے والد نے بھی اپنے بھائی کی اغوا کا مقدمہ مذکورہ افراد کے خلاف درج کیا تھا جس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریب لوگ ہیں ان کے پاس تاوان ادا کرنے کے پیسے نہیں لہذا وزیر اعلی بلوچستان، کور کمانڈر، چیف سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر چاغی انھیں انصاف دلاکر ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔