بولان میں فورسز گاڑی پربم حملہ،4 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے بولان میں پاکستانی فورسز کی ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔

جبکہ فورسز نے اس حملے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

مقامی میڈیا ”دی بلوچستان پوسٹ“نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر بریک کی ہے کہ فورسز نے گذشتہ روز مذکورہ علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے گنبدی اور گردنواح میں فوجی آپریشن آغاز کیا، آج صبح فورسز کو مذکورہ علاقوں سے واپسی نامعلوم افراد نے سفر باش کے مقام پر بم حملے میں نشانہ بنایا۔

دھماکے کے نتیجے میں فورسز کی گاڑی تباہ ہونے اور کئی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم حکام نے اس حوالے سے تاحال کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں اور حملوں کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ گذشتہ روز فورسز نے نوشکی و خاران سے متصل پہاڑی علاقوں میں آپریشن کی جہاں کم از کم تین مقامات پر مسلح افراد اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔

بعدازاں فورسز حکام نے جھڑپوں میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 6 مسلح بلوچ آزادی پسندوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا جس میں چار افراد کی تصاویر بھی جاری کی گئی۔

مقامی ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حالیہ بولان حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو کی شناخت سپاہی سلیم اور ذاکر اللہ مروت کے ناموں سے ہوگئی ہے۔

بولان کے علاقے شاہرگ میں پاکستانی فورسز کی ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment