ڈیرہ بگٹی میں مدرسے کے7سالہ طالب علم کی پر اسرار ہلاکت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ضلع ڈیرہ بگٹی کے یونین کونسل پیر کوہ میں قائم مدرسہ دارالعلوم عثمانیہ پیرکوہ میں زیر تعلیم گمشدہ بچے کی لاش پیر کوہ سے کئی کلومیٹر دور ویران علاقے سے ملی۔

بچے کے والدین کا تعلق سنگسیلہ سے ہے۔بچے کے والد ملوک پیروزانی نے بچے کو مدرسے میں داخل کروایا تھا۔ جو چھ دیگر بچوں کے ساتھ مدرسے سے فرار ہوگیا۔مدرسے سے فرار ہونے کے بعد بچہ بھٹک کر دور ویرانے میں نکل گیا جہاں نامعلوم حالات میں بچے کی موت واقع ہوگئی۔

علاقائی ذرائع کے مطابق سات سالہ بچے کی موت پہاڑ سے گرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

علاقے کے سماجی کارکنان نے مطالبہ کیا ہے بچے کی مدرسے سے فرار کی وجوہات کی تحقیقات کروائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ بچے کی حفاظت مدرسے کی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی، اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ کیا حالات تھے جس کی وجہ سے معصوم بچوں کو مدرسے سے فرار ہونا پڑا۔

بندوبست پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح بلوچستان کے کم آبادی والے پہاڑی علاقوں میں عام آبادی سے نسبتا الگ تھلگ مختلف مسلک و مذہبی گروہوں کے ماتحت دینی مدارس چلائے جارہے ہیں جہاں زیادہ تر غریب والدین کے بچے زیر تعلیم ہیں جو اپنے بچوں کی کفالت اور انھیں اسکول میں پڑھانے کی مالی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ مدارس عموما مذہبی حوالے سے سیاسی اور انتہاء پسندانہ نظریات کے حامی ہیں۔ان مدارس کی نگرانی کا کوئی نظام نہیں جہاں زیرتعلیم بچوں پر جسمانی و جنسی تشدد کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment